اکتوبر 29, 2026

کلکتہ ٹیسٹ کی پچ پر شدید تنقید، دو روز میں 27 وکٹیں، سابق کرکٹرز نے اسے ٹیسٹ کرکٹ کے لیے خطرہ قرار دے دیا

جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ نے غیر معمولی رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں محض دو روز کے کھیل میں ہی 27 وکٹیں گر چکی ہیں، جس پر بھارت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کلکتہ کی پچ کے رویے نے نہ صرف کھلاڑیوں کو حیران کیا بلکہ سابق کرکٹرز اور ماہرین نے بھی اسے ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے خلاف قرار دیا ہے۔

سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ نے پچ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ میچ کا نتیجہ دوسرے دن کے اختتام سے قبل واضح ہو جانا ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایڈن گارڈنز کی یہ پچ وقت کے ساتھ بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی گئی، باونس غیر ہموار رہا اور بیٹرز کو خطرناک اٹھتی ہوئی گیندوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت نے اس ٹیسٹ کے لیے اپنی الیون میں چار اسپنرز شامل کیے تھے، تاہم تجربہ کار بیٹرز اور بولرز بھی پچ کے غیر متوازن رویے سے پریشان نظر آئے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بھی کلکتہ کی وکٹ کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پچز ٹیسٹ کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

بھارتی میڈیا نے بھی اسی موقف کی تائید کی اور لکھا کہ اگر دو دن میں ہی میچ ختم ہونے لگیں تو شائقین ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہو جائیں گے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ ہوم کنڈیشنز کا فائدہ ضرور لیا جا سکتا ہے، مگر وکٹ ایسی ہونی چاہیے جو کم از کم تین سے چار روز تک بیٹرز، سیمرز اور اسپنرز تینوں کو کھیل میں رکھے۔

میچ کی صورتحال کے مطابق پہلے روز جنوبی افریقا کی ٹیم 159 رنز پر آؤٹ ہوئی، جس کے جواب میں بھارت بھی صرف 189 رنز بنا سکا۔ دوسری اننگز میں بھی جنوبی افریقا کی بیٹنگ لائن 153 رنز پر سمٹ گئی۔ میچ کے دوسرے روز کے اختتام تک بھارت کی دوسری اننگز بھی مشکلات کا شکار رہی اور 10 رنز پر دو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

دو روز میں ہی میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے پر کرکٹ حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اگر ایسی پچز تیار ہوتی رہیں تو ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔