اکتوبر 29, 2026

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیں

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کا نیا متن ایوان میں پیش کیا، جسے شق وار منظوری کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا۔

ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی دیکھی گئی۔ وزیر قانون کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا، جب کہ ترامیم کی منظوری کے دوران “عدلیہ کی تباہی نامنظور” کے نعرے بھی لگائے گئے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کو نعرے بازی سے باز رہنے کی ہدایت کی، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹرز فلک ناز، مرزا آفریدی اور فیصل جاوید نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا۔ پی ٹی آئی ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔

جے یو آئی (ف) کے 4 سینیٹرز نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ کلاز 2 کی ووٹنگ میں 64 ووٹ ترمیم کے حق میں اور 4 مخالفت میں ڈالے گئے۔

شق وار منظوری کے بعد تقسیمِ ووٹنگ کا عمل مکمل کیا گیا، گھنٹیاں بجائی گئیں اور سینیٹ ہال کے دروازے بند کر دیے گئے۔ بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت یعنی 64 ووٹوں کی حمایت سے منظور کر لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ نئی ترامیم کے تحت “آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینیئر ہوگا وہی چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ “صدرِ مملکت کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے، جب کہ الیکشن کمیشن کا حلف بھی چیف جسٹس پاکستان ہی لیں گے۔”