اکتوبر 29, 2026

سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم بھاری اکثریت سے منظور

ملکی ایوانِ بالا (سینیٹ) نے 27ویں آئینی ترمیم بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی، جس دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ تاہم پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔

جب 27ویں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پر ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو اس کے حق میں کھڑے ہو گئے۔
اسی طرح جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے۔

ایوان میں 64 ارکان نے آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی۔
سینیٹرز نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لیا۔

بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیمی بل کو حتمی منظوری کے لیے پیش کیا گیا، جس پر اراکین نے لابیز میں جا کر ووٹ دیا۔
نتیجتاً 64 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کسی نے مخالفت نہیں کی۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ
“27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کرلیا گیا ہے۔”

ذرائع کے مطابق ووٹنگ کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان میں واپس نہیں آئے۔