ستائیس ویں آئینی ترامیم کا مسودہ آج ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا

ISLAMABAD: June 11 – Parliamentarians listens Federal Minister for Finance, Economic Affairs and Statistics Syed Naveed Qamar presenting the national budget 2008-09 during National Assembly session at Parliament House. The minister presents the Rs. 2010 billion budget and size is 29.7% higher than the size of estimates for 2007-08. APP photo by Afzaal Chaudhry

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی منظوری کے بعد، ستائیس ویں آئینی ترامیم کا مسودہ آج ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق ایوان میں ستائیس ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک، ستائیس ویں آئینی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے، جبکہ وزیر قانون ایوان میں ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کا پورا ڈرافٹ منظور کیا اور شق وار 49 ترامیم کی منظوری دی۔ آئین کے آرٹیکل 243 کی تفصیلی مشاورت کے بعد منظوری دی گئی، جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی بھی منظوری دے دی گئی۔
کمیٹی نے زیر التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی، اور ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔

اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، جن میں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم کے اراکین شامل تھے۔
حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان مجوزہ ترامیم پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا، جن میں عوامی نیشنل پارٹی کی خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔ حکومت نے اے این پی کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ بلوچستان میں اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز پر حکومت نے مزید وقت مانگا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ترامیم پر مزید غور کے بعد آج حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سربراہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کمیٹی نے کچھ ترامیم کا اختیار انہیں اور وزیر قانون کو دے دیا ہے۔

Exit mobile version