لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فاسٹ بولر حارث رؤف پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی سی بی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق، حارث رؤف پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عائد کیا گیا، تاہم بورڈ کا مؤقف ہے کہ حارث کا رویہ ضابطہ اخلاق کے دائرے میں تھا اور ان کے خلاف کارروائی ناانصافی پر مبنی ہے۔
یاد رہے کہ 21 ستمبر کو بھارت کے خلاف ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں ہونے والے میچ میں، صاحبزادہ فرحان نے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد بیٹ کو گن کی شکل دے کر خوشی کا اظہار کیا تھا، جبکہ حارث رؤف نے وکٹ حاصل کرنے اور باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کے دوران بھارتی شائقین کی جانب طنزیہ اشارے کیے تھے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ اور مداحوں نے ان حرکات کو ناپسند کرتے ہوئے آئی سی سی میں باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس پر میچ ریفری رچی رچرڈسن کی زیر نگرانی سماعت ہوئی۔ سماعت کے بعد جہاں صاحبزادہ فرحان کو محض تنبیہ جاری کی گئی، وہیں حارث رؤف پر 30 فیصد میچ فیس جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
پی سی بی نے مؤقف اپنایا ہے کہ نہ تو حارث رؤف کا تماشائیوں کی جانب اشارہ خلاف ضابطہ تھا اور نہ ہی بھارتی کھلاڑیوں کے خلاف رویہ کسی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے بورڈ اس فیصلے کو چیلنج کرے گا اور باقاعدہ اپیل دائر کی جائے گی۔
فی الوقت یہ واضح نہیں کہ حارث پر جرمانہ تماشائیوں کی جانب اشارے کی بنیاد پر ہوا یا بھارتی کھلاڑیوں کے خلاف جارحیت کی بنا پر، تاہم پی سی بی اس ابہام کی وضاحت بھی آئی سی سی سے طلب کرے گا۔
