راجا ناصر محمود (حسام کھاریاں)
ورلڈ گیونگ 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ سخی ممالک میں 17 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ یہ رپورٹ انگلینڈ کی چیریٹیز ایڈ فاؤنڈیشن (CAF) اور فلاحی کام کرنے والی تنظیم پاکستان سنٹر (PCP) کے پیش کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس میں مالی عطیات ، رضا کارانہ خدمات اور اجنبی افراد کی مالی امداد و غیرہ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ اعزاز پاکستان کے روشن ، ہمدرد اور انسان دوست چہرے کا واضع عکاس ہے جس کی اب پوری دنیا معترف ہے۔ پاکستانی عوام جس طرح اپنی محنت کی کمائی دل کھول کر ایدھی فاؤنڈیشن ، چھیپا ویلفیئر ، سیلانی ٹرسٹ، اخوت ، الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے ذریعے یا براہ راست ضرورت مندوں کو فراہم کرتے ہیں وہ پاکستانیوں کی سخاوت، دریا دلی اور انسان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور یہی خوبی پاکستان کو دنیا کی سب سے محمد رد اور فلاحی قوموں میں ایک ممتاز اور باوقار مقام پر پہنچاتی ہے۔ یہ قابل فخر مقام پوری پاکستانی قوم کے لئے باعث اطمینان ہے کہ ہمارے لوگ آج کل کے مشکل ترین حالات میں بھی دوسروں کی مدد کو ترجیح دیتے ہیں اور نادار اور مصیبت میں گھرے لوگوں کی مالی اعانت اور خدمت کرنے میں کوئی کوتاہی یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ قدرتی آفات اور انسانی المیوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے قوم کا بار بار امتحان لیا ہے۔ 1935 کے کوئٹہ زلزلے میں تقریباً 60 ہزار افراد جاں بحق ہوئے، 1970 کے مشرقی پاکستان کے طوفان میں تقریباً 5 لاکھ جانیں ضائع ہوئیں۔ 1992 کے سیلاب میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جب کہ 2005 کے زلزلے میں 80 ہزار سے زیادہ جانیں گئی اور معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح 2010 کے سیلاب میں ملک کا پانچواں حصہ ڈوب گیا اور تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے۔ 2022 کے ہولناک سیلاب میں بھی 1700 سے زائد افراد جاں بحق اور 3 کروڑ سے زیادہ متاثر ہوئے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں کلاؤڈ برسٹ اور غیر معمولی بارشوں کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں جو دراصل کی طرح کی ماحولیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہیں اور آئے دن لوگوں کے لئے کئی طرح کی مشکلات اور مصائب کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن ان تمام المیوں اور سانحات میں پاکستانی عوام کا مصیبت زدہ لوگوں کی دل کھول کر مدد کرنا ایک بڑا حوصلہ افزا اور قابل ستائش عمل ہے۔
آج کل ملک کے طول و عرض میں سیلابی صور تحال بھی ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے چکی ہے۔ غیر معمولی بارشوں کے ساتھ بھارت کی آبی جارحیت نے سیلابوں کی صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے جس سے لاکھوں افراد بے گھر اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو فوری طور پر خیمے ، صاف پانی، خشک و پکا ہوا کھانا، ادویات، کپڑے، بچوں کے دودھ اور راشن کی فوری ضرورت ہے۔ اس مشکل وقت میں ہمارے فلاحی ادارے اور مخیر حضرات انفرادی طور پر بھی متاثرین کی دادرسی کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو مزید فعال ، جدید اور تیز ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تا کہ امدادی کارروائیاں زیادہ بہتر ، منظم اور تیز رفتاری سے پایہ تکمیل کو پہنچیں۔ یہاں مجھے پوری امید ہے کہ پاکستانی عوام اپنی روایتی ہمد ردی، سخاوت اور ایثار کے جذبے سے متاثرین کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ایک بار پھر یہ ثابت کریں گے دنیا کی سب سے ہمدرد، انسان دوست اور سخی قوموں میں پاکستان صف اول میں موجود ہے اور پاکستانی مشکل اور مصیبت میں گھرے اپنے ہم وطنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔
پاکستان زندہ باد





