میرا درد، میرا فخر

(ایک ماں کی جدوجہد اور قربانیوں کی داستان)

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

ماں۔۔۔ تین حروف پر مشتمل یہ لفظ اپنے اندر ایک کائنات سموئے ہوئے ہے۔ یہ لفظ محبت کی معراج بھی ہے، سکون کا مرکز بھی، اور اولاد کے لیے سب سے بڑا سہارا بھی۔ ’م‘ میں وہ محبت ہے جو ہر غرض سے پاک ہے، ’ا‘ میں وہ آسرا ہے جو زندگی کے طوفانوں میں ڈھال بن جاتا ہے، اور’ں‘ میں وہ نور ہے جو اولاد کی راہوں کو روشن رکھتا ہے۔میری ماں جی انہی تین حقیقتوں کی زندہ تصویر تھیں۔ وہ ماں جنہوں نے اپنی خوشیوں کو قربان کیا تاکہ ہماری زندگیاں سنور سکیں، وہ ماں جنہوں نے دکھ سہہ کر بھی ہمیں سکون دیا اور آنسو چھپا کر ہمیں مسکراہٹیں دیں۔میری ماں جی ایک ایسے خانوادے میں پیدا ہوئیں جس کی بنیاد علم اور خدمت پر تھی۔ میرے نانا جان حاجی شیر محمد، قیام پاکستان سے پہلے تحصیل شاہ کوٹ، ضلع جالندھرکے سول اسپتال میں بطور ڈسپنسر خدمات انجام دیتے رہے۔ دوسری جنگِ عظیم (1939-1945) کے دوران محاذ پر میڈیکل اسٹاف کے ساتھ بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ تقسیم ہند کے وقت اپنی آبائی سرزمین شاہ کوٹ، ضلع جالندھر کو خیرباد کہنا پڑا،گھر بار اور کھیت کھلیان چھوڑنے پڑے۔ وہ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور تاریخی شہر گوگیرہ میں آباد ہوئے۔ یہاں انہوں نے سول اسپتال میں ڈسپنسر انچارج ملازمت اختیار کی اور اپنی محنت و دیانت سے گوگیرہ اور گردونواح میں ایک معتبر نام بنایا۔ماں جی اپنی بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھیں۔ ان کے تین بڑے بھائی تھے،ایک ایڈووکیٹ، دوسرے آرمی آفیسر اور تیسرے محکمہ انہار میں ملازمت کرتے تھے۔ ایک بڑی بہن جنکے خاوند بھی محکمہ انہار میں ملازمت کرتے تھے۔ اگرچہ ماں جی تعلیمی میدان میں اوسط درجے کی طالبہ تھیں، لیکن اللہ نے انہیں ایک خاص عزت عطا کی۔ وہ خاندان کی پہلی بیٹی تھیں جنہوں نے بورڈ امتحان میں اسکالرشپ حاصل کی، اور یہ بات پورے خاندان، اسکول اور علاقہ کے لیے فخر کا باعث بنی۔ماں جی کی شادی والد محترم، چودھری عبدالرشید مرحوم (پی ڈبلیو آئی ریلوے) سے ہوئی تو ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا، لیکن یہ خوشی طویل عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ والد محترم دورانِ ملازمت اچانک دل کے دورہ سے انتقال کر گئے۔ وہ دن ماں جی کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھا۔جوانی میں بیوہ ہونا اور چار بچوں کی ذمہ داری اٹھانا کسی کے لیے بھی کڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ مگر میری ماں نے صبر اور عزم کا وہ مظاہرہ کیا جس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ انہوں نے اپنی خواہشوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک مقصد کو سامنے رکھا،اپنی اولاد کی بہتر پرورش اور بہترین تربیت۔راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری)اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا اور میری تین بہنیں۔ماں جی نے دو بڑی بہنوں کو تعلیم دلوائی اور پھر عزت و وقار کے ساتھ ان کی شادیاں کیں۔ چھوٹی بہن کو قانون کی تعلیم دلوائی اور آج وہ اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔مجھے نہ صرف زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ ایک باوقار مسلمان اور معاشرے کا مفید شہری کیسے بنا جاتا ہے۔ آج میں صحافت اور سماجی خدمات کے میدان میں جو کچھ بھی ہوں، یہ دراصل ماں جی کی انتھک محنت اور دعاؤں کا ثمر ہے۔ان کی بیوگی کے اڑتیس برس قربانیوں، جدوجہد اور صبر کی ایک مکمل داستان ہیں۔والد صاحب کے انتقال کے بعد ماں جی نے محکمہ ریلوے سے ملنے والی پنشن اور گریجوایٹی کے محدود وسائل کو یوں سنبھال کر استعمال کیا جیسے کوئی خزانے کا نگران ہو۔ اپنی ذات پر بے پناہ کفایت شعاری اختیار کی، مگر اولاد پر ہمیشہ فیاضی کے دریچے کھولے رکھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ہماری پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ہم کبھی خود کو یتیم یا کمزور نہ سمجھیں۔ جب بھی ہماری ضرورت سامنے آتی، وہ اپنی خواہشوں کو قربان کر دیتیں اور ہماری خوشی کو اپنی خوشی سمجھتیں۔ماں جی کی محبت کا دائرہ صرف ہم بھائی بہنوں تک محدود نہ تھا۔ ان کے نواسے نواسیاں اور معصوم پوتیاں بھی ان کی ممتا کی روشنی میں پروان چڑھتے۔ ان کے کمرے کی فضاء ہمیشہ بچوں کی مسکراہٹوں، ہنسی کی کھنک اور ماں جی کی دعاؤں کی خوشبو سے مہکتی رہتی۔ ننھے ہاتھ جب کھیلتے کھیلتے دادی کی طرف لپکتے، اور معصوم نگاہیں جب ان کے چہرے سے روشنی کشید کرتیں، تو وہ منظر دلوں کو سکون اور آنکھوں کو روشنی دے جاتا۔ خاص طور پر جب ماں جی اپنی معصوم پوتیوں کو بانہوں میں بھر کر ان کے ماتھے کو چومتے ہوئے بے ساختہ دعائیں دیتیں تو یوں لگتا جیسے ان کی گود ہی دنیا کا سب سے محفوظ مقام ہے۔20 دسمبر 2023 کی صبح ہماری زندگی کی سب سے بھاری صبح ثابت ہوئی۔ماں جی کو تین دن سے ہلکی سی کھانسی اور نزلہ تھا، علاج چل رہا تھا اور ہمیں یقین بھی نہ تھا کہ یہ مرض کسی بڑے امتحان کی خبر دے رہا ہے۔ حسبِ معمول میں ان کا دایاں ہاتھ تھامے سکون تلاش کر رہا تھا اور چھوٹی بہن ان کی خیریت دریافت کر رہی تھی۔ ماں جی کے کمرے میں ہمیشہ کی طرح بچے بھی اپنی دادی کے گرد جمع تھے، کبھی ان کے ہاتھ سہلا رہے تھے اور کبھی مسکراتے ہوئے ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے ماں جی کی محبتیں اپنے دامن میں سمیٹ رہے ہوں۔ اسی دوران ایک لمحہ ایسا آیا جو ہماری زندگی کو دو حصوں میں بانٹ گیا۔ ماں جی نے اچانک ایک ہچکی لی، آنکھیں بند کیں اور یوں لگا جیسے تھکن سے ذرا آرام کرنے لگی ہیں۔ مگر یہ نیند آرام کی نہیں، جدائی کی نیند تھی۔ دو منٹ کے اندرگھر سے ملحقہ اسپتال کے ڈاکٹر نے آ کر وہ الفاظ ادا کیے جنہیں سن کر ہمارے دل چیر گئے،ماں جی کا انتقال ہو چکا ہے۔صبح 9 بجکر 35 منٹ پر وہ ہستی، جو ہماری ڈھال، ہماری طاقت اور ہمارے وجود کا سہارا تھی، ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اْس سفر پر روانہ ہو گئی جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ اس لمحے لگا جیسے ہماری چھت گر گئی ہو، جیسے وقت رک گیا ہو، جیسے سانسیں بے معنی ہو گئیں ہوں۔وہ ماں جو کبھی ہمیں روتا نہ دیکھ سکتی تھیں، آج خود خاموش لیٹی تھیں اور ہماری چیخ و پکار سننے سے قاصر تھیں۔ میری بیٹیاں، جو اپنی دادی سے بے پناہ محبت رکھتی تھیں، زار و قطار روتی رہیں، مگر وہ بانہیں جو ہمیشہ ان کا سہارا بنتی تھیں، اب حرکت میں نہ آ سکیں۔ماں جی اب ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کی دعائیں، ان کی قربانیاں اور ان کی تربیت ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کی دعاؤں کا ہی اثر ہے کہ ہم آج معاشرے میں اپنی اپنی حیثیت کے مطابق خدمت انجام دے رہے ہیں۔ماں۔۔۔ یہ لفظ صرف تین حروف نہیں، بلکہ پوری زندگی ہے۔ ماں کا سایہ ڈھل جائے تو زندگی کی رونق ماند پڑ جاتی ہے، مگر اس کی دعاؤں کا فیض ہمیشہ باقی رہتا ہے۔یہ میرا درد ہے کہ میں اپنی ماں کو کھو بیٹھا، لیکن یہ میرا فخر بھی ہے کہ میری ماں جیسی عظیم ہستی نے اپنی زندگی ہم پر نچھاور کر دی۔ وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر روشنی، محبت اور دعاؤں کا خزانہ ہمارے دلوں میں چھوڑ گئیں۔اے اللہ! میری ماں کی مغفرت فرما، ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا، ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ دائم رکھ، اور ہمیں ہمیشہ ان کی نیک تربیت اور دعاؤں کا وارث بنا۔
خوابوں کی تعبیر تھی، دعاؤں کی تاثیر تھی
ماں کی مسکراہٹ ہی میری زندگی کی تقدیر تھی
٭٭٭

Exit mobile version