مدثر اقبال شاکر کے قلم سے
یہ مٹی عام نہیں… یہ وقت کے طوفان سہہ کر بھی اپنی خوشبو برقرار رکھنے والی مٹی ہے۔ اس پر جمی ہر لکیر ایک داستان سناتی ہے—قربانی کی، صبر کی، اور اس امانت کی جو ہم سے پہلے آنے والوں نے اپنے خون سے لکھی۔ یہ مٹی مقدس ہے کیونکہ اس میں ان خوابوں کی جڑیں پیوست ہیں جو 1947 کے مہاجر اپنے دلوں میں لیے سرحد پار سے چلے تھے۔
وہ خالی ہاتھ نہیں آئے تھے، ان کے پاس کچھ تھا جو دنیا کے کسی بازار میں نہیں بکتا—یقین۔ وہ جانتے تھے کہ یہ دھرتی آزاد ہوگی، کہ یہاں کوئی بچہ غلامی کے سائے میں پیدا نہیں ہوگا، کہ کوئی عورت اپنی چادر کھونے کے خوف میں نہیں جیے گی، کہ کوئی مزدور دوسروں کی زمین پر پسینہ بہا کر بھوکا نہیں سوئے گا۔
لیکن ہم… ہم نے کیا کیا؟ ہم نے آزادی کو کاغذ پر محفوظ کیا مگر دلوں میں اسے دھندلا ہونے دیا۔ ہم نے جھنڈے کو اونچا لہرایا مگر اس کے سبز رنگ کی معنویت کو بھلا دیا۔ ہم نے قومی ترانہ گایا مگر اس کے ہر مصرعے میں چھپے وعدے سے منہ موڑ لیا۔
یہ ملک ہم سے صرف نعرے نہیں مانگتا—یہ کردار مانگتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ ہم سچ بولیں، چاہے وہ ہمارے نقصان میں ہی کیوں نہ ہو۔ یہ چاہتا ہے کہ ہم انصاف کریں، چاہے وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ چاہتا ہے کہ ہم وہی ولولہ زندہ رکھیں جو 14 اگست 1947 کی صبح ہر سینے میں دھڑک رہا تھا۔
آج جب میں اس پرچم کو دیکھتا ہوں تو اس کے سفید حصے میں مجھے اقلیتوں کا اعتماد دکھائی دیتا ہے، اور سبز حصے میں اکثریت کا عزم۔ مگر دونوں پر دھول جمی ہے—ہماری بےحسی کی دھول۔ ہمیں اس دھول کو صاف کرنا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر یہی لکھیں گی:
انہوں نے ایک آزاد ملک پایا، مگر اس کا قرض نہ اتار سکے۔
آزادی کی حفاظت محض سرحد پر کھڑے سپاہیوں کا فرض نہیں—یہ ہر استاد، ہر مزدور، ہر طالبعلم، ہر تاجر، ہر سیاستدان، سرکاری ،غیر سرکاری اداروں ،ہر لکھاری بچے ،بوڑھے،جوان ،ماں ،بہن ،بیٹی کا فرض ہے۔ ہم سب اس سرزمین کے قرض دار ہیں۔ یہ قرض صرف خون سے نہیں اترتا—یہ کردار سے اترتا ہے۔
پاکیزہ مٹی کا قرض ابھی باقی ہے… اور جب تک یہ قرض باقی ہے، تب تک یہ سوال ہم سب کا پیچھا کرتا رہے گا:
ہم نے اس ملک کو کیا دیا، سوائے وعدوں کے؟
سوچئے گا ضرور خود سے پوچھئے گا ضرور من کو ٹٹولئے گا ضرور کہ ہم نے پایا کیا تھا اور کھو کیا رہے ہیں
