واشنگٹن؛ طویل عرصے سے متنازعہ سرحدی کشیدگی میں الجھے آذربائیجان اور آرمینیا نے بالآخر مکمل جنگ بندی کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کی ثالثی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔یہ اہم سفارتی پیش رفت وائٹ ہاؤس میں ہوئی، جہاں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے امریکی صدر کی موجودگی میں امن معاہدے پر دستخط کیے۔ صدر ٹرمپ نے خود اس معاہدے پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کیے اور دونوں رہنماؤں کو جنگ سے دور رہنے کی یقین دہانی پر سراہا۔
"میں جنگیں نہیں، تجارت چاہتا ہوں” : ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"آذربائیجان اور آرمینیا ایک بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہے تھے، میں نے ان سے کہا کہ لڑائی نہیں، ترقی اور تجارت کرو۔”
انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بھی شامل ہے، جبکہ آذربائیجان پر عائد کچھ فوجی پابندیاں ہٹانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ:
"میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی روکا، میری خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو۔”
فریقین کا مثبت ردعمل
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے معاہدے کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"ہم امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا نیا باب شروع کر رہے ہیں، اور پُرامن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے امریکی صدر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
"صدر ٹرمپ دنیا بھر میں امن کا کردار ادا کر رہے ہیں، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”
روس،یوکرین جنگ پر تبصرہ
اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
"اس تنازعہ میں ہر ہفتے 7 ہزار فوجی مارے جا رہے ہیں، اور میں جلد روس و یوکرین کے صدور سے الگ الگ ملاقات کروں گا۔”
نگورنو کاراباخ تنازع کا پس منظر
یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازع خطے پر کشیدگی 1980 کی دہائی سے جاری ہے۔ 1994 میں جنگ بندی کے باوجود، وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ آخری بار اکتوبر 2023 میں آذربائیجان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے نگورنو کاراباخ میں علیحدگی پسندوں کو غیر مسلح کر کے خطے کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔
