مدثر اقبال شاکر کے قلم سے
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ناپا نہیں جاتا، پرکھا نہیں جا سکتا۔ اور جب یہ محبت مٹی سے ہو، تو پھر اس کی شدت جنون بن جاتی ہے۔ وہ جنون جو صرف دل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ یہی وہ عشق ہے جو قربانی مانگتا ہے، جاں نثاری چاہتا ہے، اور تاریخ رقم کرتا ہے۔
قومیں اس وقت بنتی ہیں جب افراد مٹی کے ذرے کو فقط زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ اپنی پہچان، اپنی سانس، اپنی روح کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی فکری ارتقاء، یہی شعوری بلندی انسان کو اس منزل تک لے جاتی ہے جہاں وطن کے لیے مرنا، زندگی کا سب سے حسین پہلو بن جاتا ہے۔وطن سے عشق کوئی سکھائی جانے والی شے نہیں، یہ ایک فطری جذبہ ہے جو بچپن میں گلیوں میں کھیلی جانے والی خاک سے جنم لیتا ہے۔ ماں کے جھولے میں لوریاں سنتے سنتے جب ایک بچہ “میرا پاکستان” کہنا سیکھتا ہے، تو درحقیقت وہ صرف زبان نہیں کھولتا، ایک عہد کرتا ہے۔ وہ عہد جو اُسے وقت آنے پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار کر دیتا ہے۔
ہمارے اس وطن کی بنیاد ہی قربانیوں پر رکھی گئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں بیٹے، بیٹیاں، مائیں، بزرگ، جوان صرف اس لیے قربان ہو گئے کہ آنے والی نسلیں آزادی کی سانس لے سکیں۔ یہ وطن صرف جغرافیہ نہیں، یہ اُن آنکھوں کا خواب ہے جنہوں نے دو قومی نظریہ کو حقیقت بنتے دیکھا۔ اُن ماؤں کی دعاؤں کا صلہ ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو وطن پر قربان کرنے کے بعد بھی شکر ادا کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی وہ عشق، وہ جنون، وہ احساس زندہ ہے؟ کیا آج کا نوجوان وطن کو فقط ایک سرزمین سمجھتا ہے، یا ایک ایسا خواب جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے؟ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فکری بصیرت درکار ہے۔
وطن سے عشق کا مطلب صرف جھنڈا لہرانا یا قومی ترانے میں آواز ملانا نہیں۔ اس کا مطلب ہے وطن کے مفادات کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا۔ اس کا مطلب ہے دیانت داری سے کام کرنا، امانت سمجھ کر ذمہ داریاں نبھانا، اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا۔
جس خون میں وطن کا عشق بسا ہو، وہ ہاتھ رشوت نہیں لیتے، وہ زبان جھوٹ نہیں بولتی، وہ قلم جھکتا نہیں، اور وہ ضمیر کبھی خاموش نہیں رہتا۔ ایسی قومیں کبھی ہاری نہیں کرتیں، چاہے وقت کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔
یہ کالم لکھتے ہوئے میری سوچ مسلسل اُن سپاہیوں، اُن اساتذہ، اُن ڈاکٹروں، اُن محنت کشوں، اور اُن ادیبوں کی طرف جاتی ہے جو خاموشی سے اپنی محنت کے ذریعے وطن کی بنیادوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ جن کے جذبے شاید خبروں کی زینت نہ بنیں، لیکن ان کے عمل ایک دن تاریخ ضرور لکھے گی۔
ہمارا فرض صرف یہ نہیں کہ ہم وطن سے محبت کا دعویٰ کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم روز اس دعوے کو سچ کر کے دکھائیں۔ ہمارے اعمال، ہماری سوچ، ہمارا اخلاق، سب وطن کے نام ہونا چاہیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرے، تو پھر ہمیں اپنے کردار میں وہ روشنی پیدا کرنا ہوگی جو صرف عشقِ وطن سے ہی جنم لیتی ہے۔ ہمیں اپنا علم، اپنی صلاحیت، اپنی فکری گہرائی وطن کے لیے وقف کرنی ہوگی۔
کیونکہ جو قومیں اپنے ماضی کو یاد رکھتی ہیں، وہی مستقبل کی راہ پر اعتماد سے قدم رکھتی ہیں۔ اور جو قومیں اپنے شہداء کے خون کو فراموش کر دیتی ہیں، ان کا وجود دھندلا جاتا ہے۔
آیئے، اس یومِ آزادی پر صرف جشن نہ منائیں، بلکہ ایک نیا عہد کریں۔ عہد اس بات کا کہ ہم وطن سے محبت کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اپنی زندگیوں میں اتاریں گے۔ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جو امن، عدل، علم، محنت، دیانت اور اخلاص کا عکس ہو۔
رگوں میں جب تک یہ عشق دوڑتا رہے گا، جنون باقی رہے گا، تو یقین رکھیے، وطن سلامت رہے گا۔




