اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے الزامات کی تحقیقات کے لیےکمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنےکا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔جسٹس خادم حسین اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکم نامہ جاری کیا ہے۔ڈویژن بینچ کے حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ کمیشن کی تشکیل کا سنگل بینچ کا فیصلہ آئندہ سماعت تک معطل رہےگا۔حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ درخواست میں پورے پاکستان میں درج 400 مقدمات کی انکوائری کی استدعا کی گئی۔ بادی النظر میں اکثرمقدمات میں ٹرائل مکمل، سزا یا بریت کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ سزاؤں اوربریت کےخلاف اپیلیں مختلف ہائی کورٹس میں زیرالتوا ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ کمیشن کی تشکیل متعلقہ عدالتوں میں زیرالتوا اپیلوں پرکارروائی ختم کرنے کے مترادف ہے، انکوائری کمیشن کی تشکیل ٹرائل کورٹ سے ہوچکے فیصلوں میں مداخلت نہیں، ایسی کوئی بھی کوشش قانونی عمل مکمل کرکےکیےگئے فیصلے کو بےاثرکرےگی۔عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہےکہ علم ہے کہ عبوری فیصلے پر انٹراکورٹ اپیل میں سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، موجودہ کیس میں کمیشن تشکیل دینے کی مرکزی استدعا منظور کرلی گئی ہے، سنگل بینچ کا آرڈرعبوری نہیں بلکہ درحقیقت حتمی فیصلہ ہے۔خیال رہے کہ 15 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیےکمیشن تشکیل دینےکی درخواستوں پر سماعت کے بعد درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینےکا حکم دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو 30 دن میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔
اسلام آبادہائیکورٹ: توہین مذہب کے الزامات پرکمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنےکا تحریری حکمنامہ جاری
