جون 2, 2026

جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس "یو بی آئی ٹی” اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کے مابین منگل کے روز وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے، جس کا مقصد تعلیمی میدان میں تکنیکی ترقی اور صنعت و جامعہ کے اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈکی ڈائریکٹر انیسہ ایچ نوی والا نے دستخط کئے۔ اس موقع پر رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف، چیئرمین شعبہ کمپیو ٹرسائنس ڈاکٹر صادق علی خان،شعبہ کمپیوٹر سائنس کی فیکلٹی، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹر سیدہ حورالعین، ان کی ٹیم، منصورحسن قادری و دیگر بھی موجود تھے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ شعبہ کمپیوٹر سائنس میں ایک جدید اور مکمل طور پر فعال اسمارٹ کلاس روم تیار کرے گا جس میں جدید ترین تدریسی ٹیکنالوجی شامل کی جائے گی تاکہ انڈر گریجویٹ پروگرامز کو بہتر طریقے سے سپورٹ فراہم کی جاسکے۔ اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آلات فراہم کرے گا، جن میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز، انٹرایکٹو لرننگ بورڈز، ورچوئل رئیلٹی ڈیوائسز مصنوعی ذہانت "اےآئی” اور سائبر سیکیورٹی کی تعلیم سے متعلق آلات شامل ہوں گے۔ اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کلاس روم ڈیزائن، ٹیکنالوجی کے انضمام اور تدریسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں مشاورتی خدمات فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں شعبہ کمپیوٹر سائنس اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ باہمی تحقیق و ترقی "آر اینڈ ڈی” میں اشتراک کریں گے، خاص طور پر ابھرتے ہوئے شعبہ جات جیسے مصنوعی ذہانت "اے آئی” اور انٹرنیٹ آف تھنگز "آئی او ٹی” کے شعبوں میں، جن کا اطلاق تعلیمی اور صنعتی دونوں ماحول میں کیا جاسکے گا۔ یہ مفاہمتی یادداشت جامعہ اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کا آغاز ہے، جسکا مقصد نہ صرف تدریسی معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ پاکستان میں تکنیکی ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔ صدر شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر صادق علی نے بتایا کہ شعبہ ہذا میں حال میں ہی ایک نجی شعبہ کے تعاون سے عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دو اے آئی کلاس رومز تعمیر کئے گئے ہیں جس سے شعبہ ہذا کے طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ کمپیوٹرسائنس میں داخلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اے آئی کلاس رومز کی مزید ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کے تعاون سے ایک مزید اے آئی کلاس روم شعبہ کا مستقل حصہ بن جائے گا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ چین کی حیران کن رفتار سے ترقی کی بنیاد صرف صنعتی پالیسیاں، برآمدات یا انفراسٹرکچر نہیں بلکہ تعلیم پر سرمایہ کاری ہے، چین اپنے جی ڈی پی کا تقریباً چار فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، جبکہ تعلیم کیلئے یہ شرح آٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ دُگنا فرق نہ صرف پالیسی سازوں کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ ایک ترقی یافتہ قوم کی جانب بڑھتے ہوئے اقدامات کو بھی واضح کرتا ہے۔ چین کا یہ ماڈل ان تمام ترقی پذیر ممالک کیلئے مشعلِ راہ ہوسکتا ہے جو معاشی بحرانوں اور ترقی کی سست روی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ جامعات اور صنعتوں اشتراک سے نہ صرف تحقیق و ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ طلبہ کو عملی میدان سے ہم آہنگ تربیت بھی میسر آئے گی، جس سے اُن کیلئے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی نے حالیہ برسوں میں مختلف صنعتی، طبی، آئی ٹی و دیگر اداروں کیساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، جو تعلیم، تحقیق اور انٹرن شپ کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تعلیمی اداروں اور نجی صنعتوں کے مابین اس قسم کا اشتراک دنیا بھر میں جدید تعلیمی رجحانات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی اس روایت کے فروغ دیا جائے۔