تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا
انسان کی تخلیق بلاشبہ ایک عظیم اور پیچیدہ عمل ہے۔ اس جسمانی نظام کا سب سے اہم اور پوشیدہ جزو ڈی این اے (DNA: Deoxyribonucleic Acid) ہے جو ہمارے جسم میں موجود ہر خلیے (Cell) کے مرکز میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک لمبا، باریک سالماتی کوڈ (Molecular Code) ہے جو ہماری جسمانی ساخت، ذہنی رجحانات، موروثی خصوصیات اور بیماریوں تک کی مکمل معلومات اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سمجھنا آسان ہے کہ جیسے کوئی نقشہ عمارت کی بنیادوں کو ترتیب دیتا ہے، ویسے ہی ڈی این اے ہمارے جسم کی بنیاد، ڈیزائن اور فنکشنز کا قدرتی نقشہ ہے۔
ڈی این اے میں تین ارب کے لگ بھگ "بیس پیئرز” (Base Pairs) ہوتے ہیں، جن کی ترتیب انسانی صفات متعین کرتی ہے۔ آنکھوں کا رنگ، بالوں کی قسم، قد، جلد کی رنگت، جسمانی ساخت، یہاں تک کہ نیند کے معمولات، سیکھنے کی صلاحیت (Learning Ability)، بولنے کے انداز، جذباتی کیفیت اور ذہنی ردِعمل کی تشکیل بھی اسی کوڈ سے مشروط ہوتی ہے۔ یہی نہیں، کئی بیماریوں جیسے تھلیسیمیا (Thalassemia)، ہیموفیلیا (Hemophilia)، یا موروثی ذیابیطس (Genetic Diabetes) بھی اسی کے ذریعے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ڈی این اے میں صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی رجحانات کی بھی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی شخص کا جلد غصے میں آنا، حساس ہونا، سست مزاج ہونا، یا انتہائی سرگرم ہونا—یہ سب کچھ کسی حد تک اس کے جینیاتی کوڈ (Genetic Code) سے جُڑا ہوتا ہے۔
جہاں ڈی این اے انسان کی فطری ساخت کا راز کھولتا ہے، وہیں جدید سائنس انسانی خیالات کو سمجھنے کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں جن میں نمایاں ہیں:
fMRI (Functional Magnetic Resonance Imaging): دماغ کے فعال حصوں کی تفصیلی تصویری جھلک
EEG (Electroencephalogram): دماغ کی برقی لہروں کی پیمائش
Neuralink: دماغ کو براہِ راست مشین سے جوڑنے کی تحقیق، جو ایلون مسک کی کمپنی کا منصوبہ ہے
ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے سائنسدان انسانی دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات، جذبات اور تصورات کو جزوی طور پر سمجھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ جب انسان کوئی بات سوچتا ہے، یاد کرتا ہے یا کسی احساس سے دوچار ہوتا ہے، تو دماغ کے مخصوص حصے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہ سرگرمی fMRI میں مختلف رنگوں کی صورت میں دکھائی دیتی ہے، اور EEG میں یہ مختلف برقی لہروں کے اتار چڑھاؤ سے ظاہر ہوتی ہے۔
ابتدائی تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ مشینیں یہ شناخت کرنے کے قابل ہو چکی ہیں کہ انسان کسی خوشی، غم یا خوف کی کیفیت میں ہے۔ بعض صورتوں میں، جب کسی فرد کو مخصوص تصاویر یا آوازیں دکھائی گئیں، تو محققین اندازہ لگا سکے کہ وہ کس چیز کو ذہن میں لا رہا ہے۔
مستقبل میں امید کی جا رہی ہے کہ انسانی خیالات کو مکمل طور پر کمپیوٹر میں منتقل کر کے لکھا جا سکے گا یا تصویری شکل دی جا سکے گی۔ یہ پیش رفت اُن مریضوں کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتی ہے جو مکمل طور پر جسمانی طور پر مفلوج (Paralyzed) ہیں یا بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اگر یہ افراد صرف سوچ کے ذریعے کمپیوٹر یا روبوٹ چلا سکیں تو یہ ایک حیرت انگیز طبی سہولت ہو گی۔
لیکن اس ٹیکنالوجی کے ساتھ بہت سے چیلنجز بھی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر انسان کا دماغ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے ایک جیسا سسٹم سب کے خیالات کو یکساں طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔ مزید یہ کہ انسانی خیالات صرف الفاظ پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ ان میں جذبات، احساسات، یادداشتیں، اور لاشعوری (Unconscious) پہلو بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں مشین سے سمجھنا نہایت مشکل ہے۔
ان سائنسی کوششوں کے ساتھ اخلاقی، مذہبی اور قانونی مسائل بھی جُڑے ہوئے ہیں۔ اگر کبھی کوئی ایسا نظام وجود میں آ جائے جو دوسروں کے خیالات کو بغیر اجازت پڑھنے کے قابل ہو تو یہ انسان کی نجی زندگی (Privacy) پر خطرناک حملہ ہو گا۔ انسانی ذہن اور نیت کو محض مشینوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اخلاقی لحاظ سے بھی ناقابل قبول ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
"اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جانتے ہیں جو اس کے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے، اور ہم اس سے رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔”
(سورہ ق، آیت 16)
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان کی باطنی کیفیت اور ذہن کا اصل علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ سائنس اگرچہ بہت کچھ سمجھنے کے قریب پہنچ چکی ہے، مگر انسان کی باطنی دنیا ابھی بھی اسرار سے بھرپور ہے، اور مکمل علم صرف خالقِ کائنات کے پاس ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ڈی این اے انسان کی جسمانی اور ذہنی ساخت کا نہایت اہم اور بنیادی جزو ہے، جو نہ صرف جسمانی بیماریوں اور صفات کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ ذہنی رجحانات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف سائنس دماغی خیالات کو مشینوں کے ذریعے سمجھنے میں کامیابی کے قریب ہے۔ یہ پیش رفت اگر صرف انسانیت کی بھلائی، علاج، تعلیم اور ہمدردی کے دائرے میں محدود رہے تو ایک بہت بڑی نعمت بن سکتی ہے، بصورتِ دیگر یہ ایک ایسا خطرہ بھی بن سکتی ہے جو انسان کی بنیادی آزادی کو متاثر کرے۔



