ھم کب اپنے ملک سے مخلص ہونگے ؟

کالمکار: جاوید صدیقی

دنیا بھر میں با شعور قومیں ہمیشہ اپنے ملک اور دفاع و سلامتی کیلئے یکجا نظر آتی ہیں ان میں سول اور عسکری قیادت یکسوئی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے موثر اقدامات کی جانب بڑھتے ہیں اور صحیح درست سمت میں رہتے ہوئے اپنے اہداف کو حاصل کرلیتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ دشمن کے سہولتکار اور خفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار متحرک رہتے ہیں ان تمام عوامل کے باوجود بہترین سول و عسکریت قیادت اپنی دانشمندی ذہانت عقل اور دوراندیشی کے سبب تحمل مزاجی بردباری اور سنجیدگی کیساتھ سوچ و افکار کے بعد حتمی فیصلے کے بعد حملے اور جوابی حملے کیئے جاتے ہیں جیسے پاکستان نے بھارت کو دس مئی سنہ دو ہزار پچیس عیسوی کو آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے ایسا ٹھوکا کہ بھارت گھٹنوں کے بل اوندھے منہ گرا اور اب یہی عمل ایران نے اسرائیل کو دیا ھے اس اسرائیل ایران جنگ پر تبصرہ ایک امریکی دفاعی تجزیہ کار نے بھی دیا یہ امریکی دفاعی تجزیہ کار ڈگلس میکگریگر ایک ریٹائرڈ امریکی کرنل، تجربہ کار جنگجو اور عسکری ماہر ہیں۔ وہ سابق امریکی وزیرِ دفاع کے مشیر، مصنف، مشیر اور ٹی وی پر عسکری تجزیہ کار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ دفاعی اور جغرافیائی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اوور کنٹری اوور چوائس ڈاٹ کام کے مشاورتی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ اپنے تازہ آرٹیکل میں کیا لکھتے ہیں کہ گزشتہ باہتر گھنٹوں میں، جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملہ کردیا، ایران اس حملے سے غافل ضرور تھا، لیکن اسرائیل کے اندازے سے کہیں زیادہ تیزی سے سنبھل گیا۔ بالکل ایک نئے "پرل ہاربر لمحے” سے۔ اسرائیل کے اس حیران کن حملے کے صرف اٹھارہ گھنٹوں کے اندر، ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں بیلسٹک میزائل جن میں ہائپر سونک میزائل بھی شامل تھے تل ابیب اور اسرائیل کے مختلف علاقوں پر داغ دیئے۔ اسی دوران اسرائیل کا آئرن ڈوم ناکام ہوا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ناکام ہوئی۔ اب نیتن یاہو واشنگٹن سے امریکی فوجی طاقت کے ذریعے اسرائیل کو بچانے کی بھیک مانگ رہا ہے، اُس شکست سے جو اُسی نے خود واشنگٹن کے اشاروں پر بنائی۔ ادھر روس، چین، پاکستان اور بیشتر مسلم دنیا ایران کی حمایت میں متحد ہورہے ہیں۔ ایران کو سپلائیز، آلات اور تکنیکی مدد کی تیز تر فراہمی جاری ہے۔ اب حقیقت کا سامنا کرنے کا وقت ہے: واشنگٹن نے سنہ دو ہزار تین عیسوی سے اب تک مشرق وسطیٰ میں بارہ کھرب ڈالر جھونک دیئے۔ نتیجہ؟ سات ہزار امریکی ہلاک، پچاس ہزار زخمی، کھلی سرحدیں، اور ہر سال ایک لاکھ امریکی فینٹانائل کے زہر سے مر رہے ہیں۔ آج امریکہ سینتیس کھرب ڈالر کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور یہ رقم ایجنسی قرضوں کے بغیر ہے۔ ساتتر ملین امریکیوں نے صدر ٹرمپ کو اس وعدے پر ووٹ دیا کہ وہ غیر ملکی جنگوں کا خاتمہ کریں گے اور تیسری عالمی جنگ کو روکیں گے۔ ٹرمپ کا مینڈیٹ اب بھی وہی ہے: امریکہ کی سرحدوں، بندرگاہوں، اور سمندری حدود کا دفاع۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکالنا، مجرموں کو کچلنا جو امریکیوں کو قتل اور زیادتی کا نشانہ بنارہے ہیں۔ قانون کی بالادستی کو بحال کرنا لیکن اب امریکی خون کا ایک قطرہ بھی غیر ملکی جنگوں کیلئے نہیں بہے گا۔ اگر اسرائیل نے خرق جزیرے جہاں سے ایران کی نوے فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں یا بندر عباس پر حملہ کیا، تو ایران آبنائے ہرمز بند کر دیگا۔ اسکا مطلب ہے کہ دنیا کی بیس فیصد تیل کی رسد رک جائیگی۔ پھر؟ سپلائی چین متاثر، مہنگائی بے قابو، پیٹرول کی قیمت فی گیلن سات ڈالر، ہر محنت کش گھر برباد، ٹرک بند، کھانے کی رسد رُک جائے گی، معیشت تباہ صرف اس لئے کہ اسرائیل، جو اس پاگل پن کی جنگ کا آغاز کر چکا، امریکہ کو ایک وسیع تر جنگ میں گھسیٹ لے؟ ایک ایسی جنگ جس میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی ممکن ہے؟ ہماری چالیس ہزار امریکی فوجیں یو اے ای، قطر اور خلیج فارس میں موجود ہیں وہ سب ایرانی حملوں کے لیے آسان نشانے بن چکی ہیں۔ ایرانی "شاہد ون تھرٹی سکس” ڈرون کی قیمت صرف بیس ہزار ڈالر ہے جبکہ ایک
امریکی پیٹریاٹ میزائل کی لاگت چالیس لاکھ ڈالر ہے۔ ذرا حساب لگائیں ہم اپنی میزائل ذخیرہ گنوا دیں گے، دیوالیہ ہوجائیں گے اور ہمارے فوجی تابوتوں میں واپس آئیں گے۔ مشرق وسطیٰ دہانے پر ہے، واشنگٹن کو اب جو اقدامات کرنے چاہئیں وہ یہ ہیں: اوّل۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جائے اور واضح کیا جائے کہ امریکہ ایران، اسرائیل یا کسی بھی مشرق وسطیٰ کی ریاست کی تباہی کے حق میں نہیں۔ دوئم۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ فلسطینیوں کا قتل بند کرے اور غزہ و مغربی کنارے سے اپنی افواج واپس بلائے۔ سوئم۔ جب تک اسرائیل ان شرائط کو پورا نہیں کرتا، اس وقت تک اسرائیل کو ہر قسم کی فوجی امداد معطل کی جائے۔ چہارم۔ غیر جانبدار ممالک کی افواج کو غزہ اور مغربی کنارے میں تعینات کرنے کی تجویز دی جائے تاکہ امن قائم رکھا جاسکے۔ پنچم۔ امریکہ، روس، چین، بھارت اور برازیل پر مشتمل ایک امن کانفرنس منعقد کیجائے، جو ایران، اسرائیل اور اسکے ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازع حل کرے۔ میں نے خود امریکی فوجیوں کو میدان جنگ میں لیڈ کیا ہے۔ میں نے قومی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں مزید تابوت نہیں دیکھنا چاہتا۔ واشنگٹن کے جنگی سوداگر بائیس سال سے اقتدار میں ہیں۔ وہ ناکام رہے، جھوٹ بولتے رہے، اور اس دوران منافع کماتے رہے جبکہ امریکہ لہو لہان ہوتا رہا۔ اب وقت ختم ہوچکا ہے۔ "امریکہ فرسٹ” کا مطلب ہے صرف "امریکہ فرسٹ”۔ نہ اسرائیل فرسٹ، نہ یوکرین فرسٹ، نہ نیٹو فرسٹ صرف اور صرف "امریکہ فرسٹ”۔۔۔ معزز قارئین !! امریکہ سمجھتا ھے کہ وہ سپر پاور کا توازن مشرقی وسطیٰ مشرقی بعید اور شمال وسطی ممالک میں سیاسی و عسکری دباؤ رکھ کر ہی کرسکتا ھے اس انتہائی غلط فہمی کے سبب امریکہ نے صرف اور صرف اسلامی ممالک کو ہی نشانہ بنایا اور بتاتا چلا آرھا ھے، امریکہ کے اس ویژن کے سبب اس نے مسلم ریاست فلسطین میں اپنی سرپرستی میں ناجائز ریاست قائم کرلی جس میں یہودیوں کو سنہ انیس سو اڑتالیس عیسوی میں بسا دیا تھا جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ایک دہشت کی علامت بنادیا۔ دنیا نے دیکھا کہ عراق افغانستان شام مصر کویت قطر اور دیگر عرب ممالک جن میں سعودی عرب اور امارات بھی شامل ہیں امریکی دباؤ میں آگئے لیکن افغانستان فرد واحد ملک ھے جس نے امریکی دباؤ سے نکلنے کیلئے ایک طویل اور مشکل ترین جنگ لڑی جس میں امریکہ بری طرح شکست سے دوچار ہوکر بھاگا پھر امسال امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنا شروع کیا اور اسرائیل کو چڑھائی کا اشارہ دیدیا یہاں دنیا نے دیکھا کہ ایران نے اسرائیل کے دھوئیں نکال دیئے۔ اسی اثناء میں امریکہ نے بھارت اور اسرائیل کو پاکستان پر چڑھائی کرنے کا عندیہ دیدیا تو یہاں بھی پاکستان نے بری طرح بھارت کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی۔ یہاں بھی امریکہ نے شکست دیکھتے ہوئے فوری جنگ بندی کی پاکستان سے درخواست کردی۔ اب اگر ان تمام پہلوؤں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حقیقت عیاں ہوجاتی ھے کہ دنیا کا سپرپاور کہلانے والا ملک امریکہ کو چھوٹے ملکوں نے شکست سے دوچار کیا گویا امریکہ اپنی اصل حالت سے دنیا کو واقف کردیا۔ امریکہ اس قدر کمزور اور ڈرپول ملک ھے کہ ایک جانب معاشی طور پر انتہائی مقروض دوسرا اگر نیٹو ساتھ نہ دے تو جنگ سے ڈرتا ھے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کتا گھر میں شیر بنتا ھے اور باہر کتا۔ دنیا کے بدلتے حالات بتارھے ہیں کہ عنقریب امریکہ اپنی طاقت و حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا اور بہت بڑے معاشی و بیروزگاری بحران سے اسکی حالت غیر ہو جائیگی البتہ اسرائیل خود بدمعاشی کے ذریعے عرب ممالک کے بڑے حصوں پر قابض ہوجائیگا آنے والے حالات دنیا کیلئے بہت برے نظر آرھے ہیں، اب زمانہ حال اور مستقبل صرف انہی کا ہوگا جو قومیں اپنے ملک و قوم سے مخلص دیانتدار ایماندار اور سچی ہونگی کیونکہ کمزور قومیں نہ صرف اپنا ملک بلکہ اپنی ریاست کھودیں گی رجیم اور گہری سازشوں کے نتیجہ میں اسی لئے میں کہتا ہوں کہ خدارا ایک قوم اور ایک امت بن کر جیئے تو تم تاقیامت مضبوط رھوگے انشاءاللہ۔۔!!

Exit mobile version