سیف علی خان کی وراثتی جائیداد دشمن کی پراپرٹی قرار، 15ہزارکروڑ کی جائیداد سے محرومی کا امکان

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے بھارتی حکومت کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی خاندانی جائیداد کو اینیمی پراپرٹی (دشمن کی جائیداد) قرار دے دیا جس کے بعد وہ ہزاروں کروڑ کی خاندانی جائیداد محروم ہونے کا امکان ہے۔2014 میں دشمن جائیداد کے نگران محکمے نے ایک نوٹس جاری کر کے پٹودی خاندان کی بھوپال میں موجود جائیدادوں کو دشمن کی جائیداد قرار دیتے ہوئے ضبط کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم اس کے ایک سال بعد سیف علی خان نے اس نوٹس کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناع حاصل کیا تھا تاہم اب مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے حکومت کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے ان کی خاندان کی بھوپال میں وراثتی جائیداد کو دشمن کی جائیداد قرار دے دیا۔ان جائیدادوں میں فلیگ اسٹاف ہاؤس بھی شامل ہے جہاں سیف علی خان نے اپنا بچپن گزارا، اس کے ساتھ نور الصباح پیلس، دارالسلام، حبیبی کا بنگلہ، احمد آباد پیلس، کوہیفزہ پراپرٹی اور دیگر بھی شامل ہیں۔مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سیف علی خان کا خاندان 15 ہزار بھارتی کروڑ کی جائیداد سے محروم ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ ہائیکورٹ نے بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی جائیداد بیٹی ساجدہ سلطان کو دینے کا معاملہ بھی دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج دیا اور حکم دیا کہ یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ نواب حمید اللہ خان کی جائیدادوں پر صرف ساجدہ سلطان اور ان کی اولاد کا حق ہے یا مسلم پرسنل لا کے تحت دیگر وارثوں کا بھی حق ہے۔ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ایک سال میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

اینمی پراپرٹی ایکٹ کیا ہے؟

اینمی پراپرٹی ایکٹ بھارت کی مرکزی حکومت کو ان افراد کی ملکیت کا دعویٰ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔

خاندانی پس منظر

بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان تھے جن کی تین بیٹیاں تھیں، نواب حمید اللہ خان کی سب سے بڑی بیٹی عابدہ سلطان 1950 میں پاکستان ہجرت کر گئیں تھی جبکہ دوسری بیٹی ساجدہ سلطان بھارت میں ہی رہیں۔ (ایک چھوٹی بہن رابعہ سلطان تھی) اور انہوں نے نواب افتخار علی خان پٹودی سے شادی کی اور ان جائیداد کی قانونی وارث بنیں اور یوں ساجدہ سلطان کے پوتے بالی وڈ اداکار سیف علی خان کو یہ پراپرٹی وراثت میں ملی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کہانی نے نیا رخ تب آیا جب حکومت نے عابدہ سلطان کی ہجرت پر اپنا کیس بنایا جس کے بعد حکومت نے ان جائیداد کو ‘اینمی پراپرٹی’ قرار دیا۔

Exit mobile version