ڈنگہ (الطاف حسن طاہر) سابق وفاقی وزیر‘ مرکزی راہنما پاکستان پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں ترمیم اب ترمیم نہیں بلکہ آئین پاکستان کا حصہ ہے جو پارلیمنٹ نے اکثریت رائے سے کیا ہے اور پاکستان کے آئین کے مطابق آئین میں ترمیم اور قانون سازی کسی عدالت کا کام نہیں بلکہ صرف اور صرف پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کا کام یہ ہے کہ جب ان کے پاس کوئی درخواست آئے تو وہ اس کی تشریح کرے کہ کیا یہ عمل موجودہ آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ لیکن عام شہری گزشتہ دس سال سے یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں نے خود قانون سازی شروع کر دی ہے جو ان کا آئینی حق ہے ہی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں وہی ججز بیٹھے ہیں جو سپریم کورٹ میں پہلے سے بیٹھے تھے۔ اب ان کو تمام آئینی درخواستوں کی سماعت کے لئے مختص کیا گیا ہے تا کہ باقی بینچ لاکھوں افراد کے فوجداری مقدمات کی اپیلوں پر فیصلہ کریں۔
ڈنگہ: آئین پاکستان میں ترمیم اور قانون سازی کسی عدالت نہیں بلکہ صرف پارلیمنٹ کاکام ہے:چوہدری قمرزمان کائرہ
