سوات میں حالیہ سیلابی ریلے کے دوران پیش آنے والے دل خراش واقعے نے ریسکیو کی نامناسب سہولیات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے ترجمان بلال فیضی کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے میں ریسکیو کے لیے 2 طرح کی کشتیاں استعمال ہوتی ہیں جو اس صورت حال میں مؤثر نہیں تھیں۔بلال فیضی کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے مقامی طور پر بنائی گئی کشتی استعمال کی گئی، غوطہ خوروں نے پہلی کوشش میں تین افراد کو ریسکیو کیا لیکن پانی کے تیز بہاؤ کے باعث دوسری کوشش ناکام ہوگئی۔ ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کا کہنا تھا کہ ریسکیو اداروں کو اطلاع دی گئی کہ کچھ بچے ہوٹل میں پھنسے ہیں، جس پر ایمبولینس روانہ کی گئی، موقع پر پہنچنے پر پتا چلا کہ بچے ہوٹل میں نہیں سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے تھے ۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں 17افرادریلے میں بہہ گئے تھے جن میں سے 4 کوبچالیا گیا تھا جب کہ 12کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک کی تلاش جاری ہے





