کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
بہاولنگر میں سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف نظر آتے ہیں۔ عوامی نمائندے جن کا فرض ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کے مسائل حل کریں عوامی مسائل سے مکمل طور پر لا تعلق دکھائی دیتے ہیں۔ بہاولنگر واٹر سپلائی نظام میں سنگین غفلت، عوام اپنے آئینی حق سے محروم ہے۔ شہر میں واٹر سپلائی کا نظام مکمل طور پر بدانتظامی اور غفلت کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث شہری شدید گرمی میں پانی کی بوند بوند کو ترسنے پر مجبور ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 38 کے تحت ہر شہری کو زندگی، صحت اور بنیادی سہولتوں کے حصول کے حقوق حاصل ہیں مگر بہاولنگر میں یہ حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں سرکاری واٹر ٹینکیوں سے عام عوام کو پانی فراہم کرنے کی بجائے پانی بیچنے والے رکشوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو بلا رکاوٹ سرکاری ٹینکیوں سے پانی بھر کر تجارتی مقاصد کے لیے فروخت کر رہے ہیں۔ بہاولنگر کے مختلف علاقوں سے ایسی شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ واٹر سپلائی ایم سی برانچ کے موجودہ انچارج اشرف خان اور ان کے ماتحت عملے پر شہریوں کی جانب سے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے غفلت برت رہے ہیں۔ رات کے اوقات میں تعینات عملہ اکثر غیر حاضر یا لاپرواہ پایا جاتا ہے اور عملے کے بعض لوگوں کو تو یہ علم تک نہیں کہ کون سا وال کب اور کس طریقے سے کھولا جانا ہے، جس سے پانی کی ترسیل کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ قبل ازیں ایم سی واٹر برانچ میں تعینات اہلکار شادا پلمبر کو غیر قانونی کنکشنز اور بدعنوانی کے الزامات پر ہٹایا گیا تھا لیکن اشرف خان کی تعیناتی کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری تا حال نہیں آ سکی بلکہ بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے، سرکاری موٹریں اور بجلی عوامی مفاد کے لیے فراہم کی جاتی ہیں کاروباری مقاصد کے لیے ہرگز نہیں مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ اسی لئے بہاولنگر کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ رکشوں پر سرکاری پانی کی غیر قانونی ترسیل و فروخت کو فوری طور پر روکا جائے۔ بہاولنگر کے کئی شہریوں کی جانب سے 17 اور 18 ہیلپ لائنز پر باقاعدہ شکایات بھی درج کروائی گئی ہیں اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہر میں واٹر سپلائی کے نظام کا شفاف آزادانہ آڈٹ و تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور احتساب کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔ بہاولنگر کے شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایم سی واٹر برانچ کی مجرمانہ غفلت اور ناقص کارکردگی کا فوری نوٹس لے کر غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائیں اور واٹر سپلائی ٹربائنز کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں پانی کی سپلائی متاثر نہ ہو اور بہاولنگر کے شہریوں کو ان کا آئینی حق صاف پانی کی فراہمی کو بلا تعطل یقینی بنایا جا سکے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
