نومبر 3, 2026

کھاریاں: پرائیویٹ ہسپتالوں میں لوٹ مار کا بازار گرم ، فیسوں،ٹیسٹوں اور ادویات کی مد میں غریب مریضوں سے ہزاروں روپے بٹورے جانے لگے

کھاریاں(ایم عمر)پرائیویٹ ہسپتالوں میں لوٹ مار کا بازار گرم،فیسوں،ٹیسٹوں اور ادویات کی مد میں غریب مریضوں سے ہزاروں روپے بٹورے جانے لگے ہیں ساری صورت حال میں محکمہ ہیلتھ انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے جہاں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کھاریاں شہر اور اس کے مضافات میں جگہ جگہ پرائیویٹ ہسپتالوں کے نام پر کاروباری مراکز بن چکے ہیں جہاں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے ،شہریوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈی سی گجرات سے پرائیویٹ اسپتالوں کے لئے فوری طور پر کوڈ آف کنڈکٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔کھاریاں شہر میں پرائیوٹ ہسپتال انتظامیہ نے کاروباری مافیا کا روپ دھار لیا۔ہسپتال داخل ہونے والے مریضوں کو زبردستی اپنی بنائی ہوئی فارمیسی سے مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور کرنے لگے۔ جبکہ محکمہ صحت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کھاریاں شہر میں دن بدن پرائیوٹ ہسپتال میں مریضوں کا رش بڑھنے لگا ہے۔جسکی خاص وجہ طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ لواحقین کو سکون میسر ہوتا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے پرائیوٹ ہسپتال مالکان نے ہسپتال کو کمائی کا بہت بڑا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔خاص کر انہوں نے ہسپتال کے اندر اپنی ہی فارمیسی بنائی ہوئی ہے۔جہاں سے مریضوں اور انکے لواحقین کو زبردستی دوائی خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اگر س دوران کوئی مریض یا لواحقین یہ کہہ دے کہ ہسپتال کے اندر موجود فارمیسی سے ادویات مہنگی ملتی ہے۔جبکہ بازار سے پرسنٹیج میں سے بھی رعایت ملتی ہے۔اس بات پر پرائیوٹ ہسپتال انتظامیہ سے بگولہ ہو جاتی ہے۔جس کے بعد مریضوں کے لواحقین کو مجبورا وہی سے دوائی خریدنی پڑتی ہے۔مہنگی دوائی خریدنے پر شہری پریشان ہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ صحت کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ آپ ے ڈرگ افسران پر مشتمل ٹیم کے ذریعے فارمیسیوں کی انسپکشن ہونی چاہیے۔تاکہ ادویات کے رہٹ کنٹرول میں رہیں۔