نومبر 3, 2026

جامعہ گجرات کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹرHRDCکے زیر اہتمام شعبہ ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کے لیے تربیتی ورکشاپ کاانعقاد

گجرات (پ۔ر)جامعہ گجرات کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹرHRDCکے زیر اہتمام شعبہ ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کے لیے تربیتی ورکشاپ”ڈرائیونگ اور تناؤ و اعصابی تھکن سے نبٹاؤ کا طریق کار“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ ورکشاپ کا مقصد یونیورسٹی کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں میں پیشہ ورانہ سطح پر مثبت رویو ں کی تشکیل و فروغ اور صلاحیت کار کو مزید بہتر بناتے ہوئے ان کی پیشہ وارانہ مہارت و اہلیت میں اضافہ تھا۔ ڈائریکٹرHRDCڈاکٹر سمیع اللہ نے میزبانی کے فرائض سر انجام دئیے۔مہمانان اعزاز میں ڈائریکٹرٹرانسپورٹ انجینیئرڈاکٹرشعیب رؤف، ڈائریکٹر پاورٹی ریڈکشن سنٹر ڈاکٹر تنویر احمد نوید و دیگر شامل تھے۔ورکشاپ کے ریسورس پرسن میں موٹر وے پولیس کے سینیئر پٹرولنگ افسر شمریز اقبال، ڈاکٹر سید کاشف شاہد اور ڈاکٹر نمرہ شہزادی شامل تھے۔ ورکشاپ میں شعبہ ٹرانسپورٹ کے ساٹھ سے زائد ڈرائیوروں نے شرکت کرتے ہوئے تین تکنیکی سیشنوں کے ذریعے استفادہ کیا۔ انجینئر ڈاکٹرشعیب رؤف نے کہا کہ صبروتحمل ڈرائیونگ کا بنیادی اصول ہے۔ صبرو تحمل ہمیں سنگین حادثات سے بچا سکتا ہے۔ جامعہ گجرات تمام سٹاف سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھتی ہے۔اس امر کو ممکن بنانے میں مختلف سطح پر سٹاف کی بہترین تربیت لازم امر ہے۔ڈاکٹر سمیع اللہ نے کہا کہ پیشہ وارانہ رویہ انسانی تعمیر شخصیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زندگی کے عملی میدان میں میں ہمارے بہترین رویے ہی ہماری شخصیت کے آئینہ دار بنتے ہیں۔ کسی بھی ادارہ کا تمام سٹاف مجموعی کاوشوں کے ذریعے ادارہ کا نام روشن کر سکتا ہے۔ذمہ داریوں اور فرائض میں کامل دلچسپی کارکردگی کو بہتر بنانے کا وسیلہ ہے۔ HRDCکا بنیادی مقصد افراد کی شخصی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالہ سے کام کرنا ہے۔ ڈاکٹر تنویر احمد نوید نے ورکشاپ کے مقاصد کا بخوبی تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ ڈرائیونگ ایک خطرناک پیشہ ہے مگر ایک ذمہ دار ڈرائیور اپنے رویے اور انداز سے مسافروں کے دل جیت سکتا ہے۔ انسانی رویوں کے حوالہ سے معاشرتی سطح پر ہمیں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ شخصی سطح پر بہترین کاوشیں معاشرہ کے مجمومی مسائل کا حل پیش کر سکتی ہیں۔ انسانی رویے عوامی اداروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پُر خلوص کاردگی، استطاعت کار میں اضافہ و ترقی صلاحیتوں اور رویوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔شمریز اقبال نے کہا کہ ٹرانسپورٹ نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ٹریفک کے قواعد وضوابط کی کامل پیروی ہمارا قومی فریضہ ہے۔ٹریفک حادثات عمومی طور پر انسانی غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ غوروفکر کے زاویوں اور سوچ کے دھاروں میں مثبت تبدیلی کے ذریعے ٹریفک حادثات کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر سید کاشف شاہدنے مائنڈ سیٹ میں مثبت تبدیلیوں کو بہترین ڈرائیونگ کے لیے لازم قرار دیا۔ کاشف شاہد نے یونیورسٹی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کوبتایا کہ ڈرائیونگ کے دوران ذہنی حالت کو سکون میں رکھتے ہوئے ہم اپنے ساتھ چلنے والے مسافروں کو بہترین انداز میں منزل مقصود تک پہنچا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نمرہ شہزادی نے ڈرائیونگ کے حوالہ سے نفسیاتی پہلووں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریفک حادثات عمومی طور پر ہماری دماغی و ذہنی حالت میں کھنچاؤ اوراعصابی تھکن کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حالت کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے سفر کریں۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے مشمولات کو گرانقدر قرار دیا۔ اختتامی تقریب میں شرکائے ورکشاپ کو کامیاب تکمیل پر سرٹیفکیٹ پیش کئے گئے۔