آئی سیپ ( I-SAPS ) کے زیرِ اہتمام الطاف حسین ہائی سکول جہلم میں سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک ایگیجمینٹ کا انعقاد

سرائے عالمگیر(ڈاکٹر تصور حسین مرزا)گورنمنٹ الطاف حسین ہائی سکول میں مورخہ19-اگست2024ءکو I-SAPS کے زیرِ اہتمام سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک ایگیجمینٹ ہمراہ چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کا بنیادی مقصد
"CSEN Engagement with CEO/DEOs”
تھا۔اس اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسر رانا جاوید اختر ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل محمد صفدر ، عبد الکریم راؤ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل جہلم ،
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل غزالہ انور ، شاہد صدیق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری ، کنونیر سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک سیدہ شاہدہ شاہ، ممبر سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک سید اختر علی شاہ و دیگر سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک ڈسٹرکٹ جہلم کے ممبران نے شرکت کی ۔ ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد ہدیہ نعت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پیش کیا گیا ۔اس کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر I-SAPS جہلم راجہ ذیشان اسلم نے سیشن کا آغاز کیا۔ اور پہلے سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک کے مقاصد کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد ضلع جہلم میں موجود مسائل کے حوالے سے اسکور کارڈ میں موجود مسائل کو شیئر کیا۔
اس کے علاوہ ضلعی اور مقامی سطح پر بہترین تعلیمی پالیسیزز کے نفاذ میں حائل مسائل کو زیر بحث لایا گیا ۔ ضلع کے تعلیمی نقشہ کو متعارف کراتے ہوئے ضلع میں گورنمنٹ سکولز کی کل تعداد ، اساتذہ کی کل تعداد ،داخل بچوں کی کل تعداد کا جائزہ لیا گیا۔اس کے علاوہ ضلع جہلم میں موجود سکولوں کے تعلیمی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ بہت سارے ایسے سکول ہیں۔ جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جیسے متعدد سکول پینے کے صاف پانی ، چار دیواری ، بیت الخلاء اور بجلی سے محروم ہیں۔ اسی طرح تعلیمی معیار بھی بہت نیچے ہیں۔ تیسری کلاس کے متعدد بچے اردو کا ایک جملہ نہیں پڑھ سکتے ۔ متعدد بچے انگریزی کا لفظ نہیں پڑھ سکتے اور متعدد بچے تفریق کا ایک سوال بھی نہیں حل کر سکتے۔جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔
اس کے بعد ضلع کے تعلیمی بجٹ کو بھی زیر بحث لایا گیا کہ کل بجٹ 8.1 ارب روپے ہے جس سے بمشکل اخراجات پورے ہوتے ہیں ۔ سیشن کے آخر میں سرکاری سکولوں میں طلباء اور اساتذہ کے تناسب کا جائزہ لیا گیا۔ اور یہ بتایا گیا کہ ضلع میں بہت سے سکول ایسے ہیں جہاں کم بچوں کے لیے زائد استاتذہ متعین کیے گئے ہیں۔ جو کہ وسائل کےضیاع کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے سکول ہیں جہاں زائد طلبا کو صرف ایک استاد ہی میسر ہے۔ جو کہ توجہ طلب بات ہے۔ ضلع میں طلباء اور اساتذہ کے توازن کو موزوں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح سرکاری سکولوں میں طلباء و کمرہ جماعت کے تناسب میں بھی درستگی کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بہت سے سکول ایسے ہیں جہاں اکثریت طلبا کے لیے صرف ایک کمرہ جماعت ہے۔ اور متعدد اسکول ایسے ہیں جہاں قلیل طلبا کی تعداد کے لیے کثیر کمرہ جماعت ہیں۔ جس سے کمرہ جماعت اور طلباء کے درمیان عدم توازن قائم ہے جو کہ توجہ طلب بات ہے اور ان مسائل کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے ۔
سماجی تنظیموں ، عوامی نمائندگان ،مقامی کمیونٹی ، سیاسی قیادت ، اور دیگر با اثر شخصیات کو چاہیئے کہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور ممکنہ حد تک حل کرنے کی کوشش کریں تا کہ طلباء با آسانی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں ۔صاف پانی ، بیت الخلا، چار دیواری اور بجلی کی سہولیات ،نیز مختلف وجوہات کی بناء پر بہت سارے بچے سکول نہیں جا سکتے۔اور اگر چلے بھی جائیں تو ان میں سے کچھ پرائمری اور مڈل سطح تک ہی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔اور سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے سکول جانے والے بچوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی معیار کو کس طرح بہتر بنایا جائے اس موضوع پر بھرپور جن
طریقے سے ڈسکشن کی گئیپروگرام کے اختتام پر ایجوکیشن آفیسرز اور سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک کے ممبران نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ جو ذمہ داریاں جو کہ اج کی ہمیں میٹنگ میں بتائی گئی ہیں۔ ہم ان پر بھرپور طریقے سے کام کریں گے۔جس کے بعد یہ پروگرام اختتام پذیر ہو گیا

Exit mobile version