جہلم(چوہدری ظفرنور) تھانہ لِلہ کے علاقہ لِلہ بھیرہ کی رہائشی نیئر نورین ذوجہ مطلوب حسین شاہ نے درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 8 جولائی کو میں اپنی والد ہ کے گھر آئی ہوئی تھی کہ شام تقریباً 6 بجے اچانک محمد دلاور، محمدممتازپسران پسند خان سکنائے لِلہ بھیرہ، محمد عمران ولد نامعلوم سکنہ جوہرآباد، ناذیہ پروین زوجہ محمد سلیم سکنہ لِلہ بھیرہ مسلح ہائے سوٹا کھبار والے چوک سے ہماری طرف آ گئے جہاں آمنا سامنا ہوا اور لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا۔مجھے اور میری بہن ظلحہ ہماء والدہ نسیم اختر کو مارنا پیٹنا شروع کردیااور میری بھانجی جس کی عمر ڈیڑھ سال ہے میری بہن سے اس کے شوہر محمد دلاور نے چھین لی، یہ واقعہ ندیم اختر ولد حاجی گل شیر نے دیکھا اور شور واویلہ کرکے منت سماجت کی لوگوں کے اکٹھے ہونے پر تشدد کرنے والے افراد موقع سے بھاگ گئے وجہ عناد یہ تھی کہ میری بہن ظلحہ ہماء کا اس کے شوہر کے ساتھ فیملی کیس چل رہا ہے اور میری بہن نے خلع کا دعویٰ دائر کررکھا ہے، دورانِ جھگڑا ملزمان نے میرے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کردیا، جس پر تھانہ لِلہ کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر کاشف خان نے زیر دفعہ 354 ت پ، 34 ت پ کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔
جہلم:خلع دائر کرنیکا رنج،بیوی پر شوہر کا تشدد،ڈیڑھ سالہ بیٹی چھین کر فرار
