بھارت میں اسدالدین اویسی کے فلسطین کے حق میں نعرے پر تنازع

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے لوک سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد فلسطینیوں کے حق میں بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسدالدین اویسی نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے اردو میں حلف اٹھایا اور فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا اور اپنی ریاست تلنگنا کی تعریف کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے اپنی جماعت آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے نعرے بلند کیے تھے۔حیدرآباد سے 5 مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہونے والے اویسی کی جانب سے حلف کے بعد دیے گئے بیان پر حکومتی بینچوں سے سخٹ ردعمل آیا اور قائم مقام اسپیکر نے ان کے الفاظ حذف کردیے۔بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما رادھ موہن سنگھ کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا اجلاس ہورہا تھا اور انہوں نے اراکین کو یقین دلایا کہ باقاعدہ حلف نامے سے ہٹ کر کوئی بھی بیان ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔اسپیکر بھارٹروباہاری مہتاب نے بھی تصدیق کردی کہ صرف حلف یا تصدیق کو باقاعدہ طور پر نوٹ کیا جارہا ہے۔اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے الفاظ کا دفاع کیا اور کہا کہ دیگر اراکین بھی مختلف باتیں کرتے ہیں، میں نے کہا تھا کہ جے بھیم، جے میم، جے تلنگنا، جے فلسطین، مجھے آئین کی کوئی شق بتائیں کہ اس میں غلط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کو دوسروں کی بات بھی سننی چاہیے، میں نے وہی کہا جو مجھے کہنا تھا، فلسطین کے حوالے سے مہاتما گاندھی نے کیا تھا وہ بھی پڑھیں۔فلسطین کے بارے میں نعرے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہاں فلسطینیوں پر ظلم کے پتھر توڑے جا رہے ہیں۔بی جے پی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسدالدین اویسی بیرونی ریاست فسلطین سے وفاداری پر نااہل ہوسکتے ہیں۔وفاقی وزیر شوبھا کارندلج نے وزیر داخلہ کے دفتر کو خط لکھا ہے، جس میں اویسی کی تقریر پر اعتراض کیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے قائم مقام اسپیکر سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اسدالدین اویسی سے کہیں کہ وہ دوبارہ حلف لیں۔

Exit mobile version