حکومتی ناقص حکمت عملی، ضلع جہلم کے 50فیصد علاقوں میں پینے کا صاف پانی نایاب،لوگ مہلک امراض کا شکار ہونے لگے

جہلم(ڈسٹرکٹ رپورٹر) ضلع جہلم کے 50فیصد علاقوں میں پینے کا صاف پانی نایاب، واٹر فلٹریشن پلانٹس کا نظام دیہاتی سطح پر نہ ہونے کے باعث مضافاتی علاقوں کی عوام مہلک امراض کا شکار ہونے لگی، حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث شہری ناقص و غیر معیاری مضر صحت پانی پینے پر مجبور۔ شہری بنیادی سہولیات سے محروم، وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کیمطابق ضلع جہلم کے شہری علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کے نصب کرنے کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن واٹر فلٹریشن پلانٹس میں فلٹر کی تبدیلی کا عمل انتہائی ناقص ہو چکاہے، زیادہ تر فلٹر طویل عرصہ سے تبدیل ہی نہیں ہوئے، فلٹر کی بروقت تبدیلی نہ ہونے کے باعث پانی کامعیار انتہائی ناقص ہو جاتا ہے۔پانی صحت کے بجائے بیماریوں میں تبدیل ہو جاتا ہے فلٹر شدہ صاف پانی ہر انسان کی ضرورت ہے لیکن دور جدید میں بھی ضلع جہلم کے شہری فلٹر شدہ پانی سے محروم ہیں، ضلع جہلم کے بیشتر دیہاتوں میں صاف پانی بالکل نایاب ہے، دیہاتی عوام گھروں کا گندا اور بھاری پانی پینے پر مجبور ہیں، بھاری پانی پینے سے دیہاتی عوام میں مہلک امراض پھیل رہے ہیں شہروں کی نسبت دیہات میں مہلک امرض کی کثرت پائی جاتی ہے۔ دیہاتی عوام ہیپاٹائٹس، یرقان، معدہ، جگر، جلدی امراض کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کی موذی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، پانی کا صاف نہ ملنا شہریوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہا ہے ضلعی حکومت شہریوں کی داد رسی میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے، منتخب عوامی نمائندے فقط ووٹ کے حصول کے لئے شہریوں کے پاس انتخابات کے سیزن میں جاتے ہیں لیکن عوام کی خدمت کے لئے شہری اپنے نمائندوں کی تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔ منتخب نمائندے شہریوں سے ملنا ملانا تو دور کی بات، بات کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتے جس کیوجہ سے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈی سی او جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Exit mobile version