:
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری
آج 17 جون ہے، 10 سال سے ایک ابلتا ہوا خون ہے، خاموش اس پر ہر ادارہ و قانون ہے،۔۔ لیکن قدرت کا بھی ایک قانون ہے، لرزہ بر اندام ریاست کا ہر ستون ہے، شکارِ مکافات ہر خونی جنونی و جنون ہے۔۔۔ کہ آج 17 جون ہے۔۔ اور اس بار تو 17 جون عین خدائی قربانی کے دن عیدالضحی کو واقع ہوا ہے۔۔ اللہ کے راستے میں جہاں جانوروں کا خون بہایا جائے گا وہیں اللہ کی بارگاہ میں 14 درود شریف پڑھتے معصوم مظلومین مقتولین کا خون بھی انصاف مانگ رہا ہو گا۔
ابن کثیر بحوالہ مستدرک حاکم نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت یحیٰی علیہ السلام کو شام و دمشق کی ریاست کے سربراہ نے ظلمًا شہید کیا اور آپ کا سر مبارک طشت میں رکھ کر لایا گیا تو سر مبارک سے خون ابل رہا تھا، جوش مار رہا تھا اور سر مبارک بآوازِ بلند بول رہا تھا کہ تو ظالم ہے۔۔ پھر سر مبارک سے برابر خون ابلتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک ظالم بادشاہ نے دمشق پر حملہ کیا اور ستر ہزار بنی اسرائیل کو قتل کردیا، تب اس دور کے ایک نبی حضرت یرمیاہ علیہ السلام نے آکر حضرت یحییٰ کے ابلتے خون کو مخاطب کر کے کہا اے خون ! کیا اب بھی تو ساکن نہ ہوگا ؟ کتنی مخلوق خدا فنا ہوچکی اب ساکن ہوجا۔ چنانچہ اس وقت وہ خون بند ہوگیا۔ ۔۔۔ اللہ تعالٰی نے ایک پاک بے گناہ خون کے بدلے ظلم پر خاموش رہنے والے ستر ہزار بنی اسرائیلیوں کو قتل کروا دیا۔۔
اسی طرح جب سانحہ کربلا میں پاک خون بہایا گیا اس
کے بدلے ستر ہزار بنو امیہ کو بنو عباس کے پہلے حکمران السفاح کے ہاتھوں تہہ تیغ کروا دیا گیا۔۔
ظلم کرنا تو ظلم ہے ہی لیکن ظلم پر خاموش رہنا اور مظلومین کی مدد نہ کرنا بھی ظلم ہے۔۔ قدرت کا انتقام ذرا آہستہ ضرور ہوتا ہے لیکن قدرت کی چکی پیستی بہت باریک ہے۔
مکافاتِ عمل کا شکار تو ہر ظالم نے ہونا ہی ہوتا ہے، البتہ ذاتی رنجشوں پر قتل و ظلم پر قدرت اور انداز میں بدلہ لیتی ہے لیکن جب انصاف فراہم کرنے کے ذمہ دار ریاستی ادارے خود ظلم کا بازار گرم کرتے ہیں تو اس پر قدرت کا انتقام انتہائی سخت ہوتا ہے۔ ڈاتی رنجشوں پر دیت بھی ادا ہو جاتی ہے لیکن سیاسی و ادارہ جاتی ظلم پر قدرت دیت بھی قبول نہیں کرتی بلکہ ایک کے بدلے ستر ستر ہزار بھی شکارِ عذاب ہو جایا کرتے ہیں۔
ذرا چشمِ تصور میں لائیں کہ اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو سزا ہو چکی ہوتی تو آج کا پاکستان کیسا پاکستان ہوتا؟ نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، حمزہ شہباز ، توقیر شاہ اور سکھیرا و دیگر کئی پولیس افسران سزائے موت پا چکے ہوتے یا عمر قید کاٹ رہے ہوتے۔ نہ موجودہ PDM حکومت ہوتی، نہ فارم 47 مسلط کیا گیا ہوتا، نہ عمران خان دو دو سو پرچے بھگت رہا ہوتا، نہ وہ پابندِ سلاسل ہوتا، نہ اسٹیبلشمنٹ عوامی نفرت کا نشانہ بنتی، نہ 9 مئی کے بہانے PTI کو crush کیا جاتا، نہ عدالتیں اپنے ہی ہاتھوں میں اپنا لاشہ اٹھائے نشانِ عبرت بنی ہوتیں، نہ ختمِ نبوت کے کسی جلسے جلوس پر کسی ریاستی ادارے کو فائرنگ کر کے قتلِ عام کی جرات ہوتی اور نہ سیاسی مخالفین پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا جا سکتا، نہ سیاسی مخالفین اور میڈیا پرسنز کو ان کی خواتین کی عزتوں پر حملے کرنے کی دھمکیاں دے کر خاموش کروایا جاتا۔۔
اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کی پشت پناہی کر کے ان کو بچایا، عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ظلم پر زبانی و عملی خاموشی اختیار کرنا مناسب جانا، خرم نواز گنڈاپور صاحب کی قیادت میں بار بار جانے والے PAT کے وفود کو عمران خان نے ذرا برابر بھی اہمیت نہ دی، اپنی جماعت کے کارکنان پر درج تمام سابقہ حکومتی پرچے قانونًا ختم کروا دیئے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لوگوں پر درج حکومتی پرچے جو انصافی حکومت واپس لے سکتی تھی وہ بھی واپس نہ لئے اور وہ کارکنان ابھی تک وہ پرچے بھگت رہے ہیں، مذہبی و سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ہر گزرنے والے 17 جون پر ایک مذمتی بیان تک نہ دیا تو نتیجتًا آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کا وہی ذمہ دار گروہ اقتدار پر قابض بلکہ بری طرح مسلط ہے ۔۔ اس گروہ کی پشت پناہی کرنے والی عدالتوں کا حال اس گروہ نے یہ کر دیا ہے کہ عدلیہ اپنا لاشہ ہاتھوں میں اٹھائے خود ہی گلیوں بازاروں میں رسوا ہو رہی ہے، لاشے پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں لیکن اس تعفن زدہ لاشے کو کوئی دفن تک کرنے کو تیار نہیں ۔۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر باوجود اقتدار کے چشم پوشی کرنے والا عمران خان اسی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار گروہ کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتا پھر رہا ہے۔ اس گروہ نے پہلے اس کی حکومت چھینی، پھر اسے بے بس کر کے زمان پارک کے ویرانے میں اس طرح پھینک دیا کہ جہاں اب ایک نعرہ لگانے والا بھی دستیاب نہ رہا تھا۔ اور اب ساری مقبولیت کے باوجود جیل کی کوٹھڑی میں اسٹیبلشمینٹ سے ڈیل کی امید میں دن گزارے جا رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ PDM گروہ کی پشت ہناہی کرتے کرتے عوامی نفرت کا ایسے نشانہ بنی ہے کہ اب اس کا کوئی افسر آزادانہ گلیوں بازاروں میں نکل بھی نہیں سکتا۔ ۔۔ بظاہر نون لیگ کی حکومت ہے لیکن یہ حکومت خود نون لیگ کیلیے بھی عذاب سے کم نہیں ۔ اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی اپنے قائد کو وزیر اعظم تک نہیں بنوا پائی۔ نون لیگ کی اس حکومت کے نتیجے میں نون لیگ کی عوام میں موجود رہی سہی حمایت بھی مکمل ختم ہو گئی ہے، اور دوبارہ عوام میں حمایت حاصل ہونے کا دور دور تک کوئی نشان تک باقی نہیں ۔ نون لیگ ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکی۔۔ بس جتنے دن کسی کی آشیرباد سے زبردستی مسلط ہیں اتنے دن ہی یہ لن ترانیاں ہیں، یہ نون لیگ کی آخری چند روزہ حکومت ہے، اس کے بعد ہمیشہ کیلئے مکمل خاتمہ ۔۔۔۔
ساری مقبولیت و میڈیا چابکدستیوں کے باوجود بھی PTI اور خان کا مستقبل مایوسی و تاریکی کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا ہے۔۔ کیونکہ قدرت ظلم پر خاموشی کا بھی انتقام ضرور لیتی ہے۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کے مظلومین تو عدالتوں میں 600 سے زیادہ پیشیاں بھگت چکے ہیں، عدالت نے سانحہ ماڈل پر احتجاج پر بھی عدالتی پابندی لگائی ہوئی ہے ،یہ ظلم پر ایک اور ظلم کہ اگر انصاف کا خون ہونے پر احتجاج کرو تو پھر مزید قانون کے شکنجے میں پھنس جاؤ۔ ایک مہنگی عدالتی جنگ ہی باقی ہے جو آج بھی جاری ہے، اس میں بھی کئی بار وکلاء کے پینل خرید لیئے جاتے ہیں ، پینل بدلنا پڑتے ہیں، مجرموں کو عدالتیں غیر قانونی رہا کرتی چلی جاتی ہیں اور مظلومین منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ظلم ہی ظلم جاری ہے۔۔۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن نے ہر ایک کو بیچ چوراہے کے ننگا کر دیا ہے۔۔ ہر ذمہ دار اور چشم پوش مکافاتِ عمل کا شکار ہے، قدرت کی چکی آہستہ آہستہ لیکن بہت باریک پیس رہی ہے ۔۔۔ ان شاء اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ہر کردار اپنے بدترین انجام کو پہنچ کر رہے گا۔ جس کا جتنا حصہ ہے اتنا عذاب وہ ضرور بھگتے گا۔۔
