سرائے عالمگیر (ڈاکٹر تصور حسین مرزا) ۔جس میں گورنمنٹ پرائمری سکول ائمہ جٹہ ، گورنمنٹ فوجی ٹیکسٹائل مل ، گورنمنٹ چک جمال سکول ، گورنمنٹ پرائمری سکول چیتین کی ہیڈ ٹیچرز اور دیگر پبلک اسکول کی ہیڈ ٹیچرز اور کلاس ٹیچرز نے شرکت کی .اس کے علاوہ تحصیل و ضلع جہلم کے مختلف سکولوں کی سکول کونسل کے چیئرمین اور ممبران نے شرکت کی۔اس کے علاوہ سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹورک کے ممبران نے بھرپور طریقے سے سیشن میں شرکت کی ۔
۔پذروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد ہدیہ نعت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پیش کیا گیا ۔اس کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر I-SAPS جہلم راجہ ذیشان اسلم نے سیشن کا آغاز کیا اور پہلے سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک کے مقاصد کو متعارف کرایا نیز سکول کونسل ممبران کی ذمے داریاں اور سکولوں کی ترقی میں ان کے کردار کو واضح کیا اس کے علاوہ سکول کونسل ممبران سے ان کے مسائل اور ان مسائل کو حل کرنے کی تجویز دی گئی اسکول کونسلوں کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر بھرپور ڈسکشن کی گئی.اس کے بعد کمیونٹی کی شمولیت اور تعلیم میں شرکت کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیڈ ٹیچرز کی رائے لی گئی۔ اگلی سہ ماہی/سال کے لیے ترجیحات اور ایکشن پلان ترتیب دینے جیسے اہم موضوع پر بھی زیر غور کیا گیا ۔
۔اس کے علاوہ سرکاری سکولوں کے مسائل ،جس کی نشاندہی سول سوسائٹی ایجوکیشن نیٹ ورک جہلم کی ٹیم گاہے بگاہے کرتی رہتی ہے۔اور پھر سکولوں کے سربراہان اور محکمہ تعلیم کے افسران کے تعاون اور کوششوں سے حل کرتی رہتی ہے۔اس کے باوجود بہت سارے مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں نیز مختلف وجوہات کی بناء پر بہت سارے بچے سکول نہیں جا سکتے۔اور اگر چلے بھی جائیں تو ان میں سے کچھ پرائمری اور مڈل سطح تک ہی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔اور سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے سکول جانے والے بچوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔پروگرام کے اختتام پر سکول کونسل ممبران نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ سکول کونسل کی جو ذمہ داریاں جو کہ اج کی ہمیں میٹنگ میں بتائی گئی ہیں اس پہلے سے ہم اشنا نہ تھے لیکن اب چونکہ ہمیں یہ ساری ذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے لہذا ہم ان کے اوپر بھرپور طریقے سے کام کریں گے۔جس کے بعد یہ پروگرام اختتام پذیر ہو گیا۔پروگرام کے اختتام پر تمام حاضرین کو پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔جس کے بعد یہ پروگرام اختتام پذیر ہو گیا۔





