نومبر 1, 2026

دس دس سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات محمکہ ایجوکیشن کے آفیسرز کو دوسرے اضلاع میں ٹرانسفر کیا جائے: صدر پنجاب ٹیچرز یونین چوہدری اللہ رکھا

سرائے عالمگیر, ( ڈاکٹر تصور حسین مرزا ) پنجاب کے متعدد اضلاع میں محمکہ ایجوکیشن میں کئ سالوں سے تعینات آفیسرز کو دوسرے اضلاع میں ٹرانسفر کیا جائے کئ ایسے اضلاع ہیں جن میں ان آفیسرز کو دس دس سال ہونے کو ہیں وہ سیکٹریٹ میں ملی بگت سے اپنے آرڈر ایک تحصیل سے دوسری تحصیل میں کروا لیتے ہیں لہذا ان کا ڈیٹا لیا جائے اور ان کو دوسرے اضلاع میں تعینات کیا جائے ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر پنجاب ٹیچر یونین پنجاب چوہدری اللہ رکھا نے کیا اس کے علاوہ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی ایک مقام تعیناتی پر تین سال مکمل ہونے کے بعد ٹیچرز کو STR کی شرط سے استثنیٰ دیا جائے سب سے پہلے ان سکولوں میں ٹرانسفر کا آپشن دیا جائےزیرو ٹیچر ، سنگل ٹیچر، دو ٹیچرڈس ایبل اساتذہ کیلئے کم از کم ایک بار اوپن میرٹ پر بغیر کسی شرط کے ٹرانسفر کا موقع ہونا چاہیے اس کے بعد اوپن ٹرانسفر کا آپشن صرف 3 سال یا اس سے زیادہ عرصہ والے ٹیچر کو دیا جائے اس موقع چوہدری وحید حیدر گجر جنرل سیکرٹری پنجاب ٹیچر یونین پنجاب کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سپیشل کنوینس الاؤنس یا الیکٹرانک بائیک دی جائیں وہ بھی صرف ان اسکولوں کیلئے جہاں سٹاف کم، زیرو، سنگل، دو یا STR کے مطابق کم ہو 2856/- روپے کنوینس آلاونس پر اساتذہ 2005 سے گزارا کر رہے ہیں جبکہ فیمیلز اساتذہ کے ویگن کرایہ 2000 سے 14000 ہوگئے ہیں اور وہ بے چاری سالوں سے اسی اسٹیشن پر ہیں ان کیلئے ایسی پالیسی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے قریبی اسٹیشن پر ٹرانسفر کروا سکیں یا ان کیلئے کنوینس الاؤنس بڑھانا چاہیے
(سنگل سکول ٹیچر سالوں سے وہاں پر مجبوراً جا رہے ہیں جو سیکنڑوں کلومیٹر دور اسٹیشن ہیں وہاں بہت سی ٹیچرز کی شادیاں ہو چکی ہیں مگر وہ انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفر نہیں کروا پارہی اور ان کے گھر اجڑ گئے ہیں)کسی ایک مقام تعیناتی پر تین سال مکمل ہونے کے بعد ٹیچرز کو STR کی شرط سے استثنیٰ دیا جائے ہر سال تعطیلات موسم گرما کے دوران ٹیچرز کی ریشنلائزیشن کی جائے۔ اس موقع پر طارق قریشی نائب صدر PTU پنجاب نے کہا کہ بوائز سکولز میں فیمیل اساتذہ کی تعیناتی کی پالیسی کو فوراً ختم کیا جائے اور فیمیل اساتذہ کو گرلز سکولز میں ٹرانسفر / تعینات کیا جائے ٹیچرز کے باہمی تبادلہ جات (mutual transfer) کو سال بھر اوپن رکھا جائے۔
اوپن میرٹ ٹرانسفر شیڈول / کلینڈر پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفر پر سنیارٹی ختم نہ کی جائے