تحریر: نشاء رحمٰن
طالبہ بی ایس اکنامکس
گورنمنٹ زمیندار گریجویٹ کالج، گجرات
علامہ اقبال کی علمی وجاہت میں فلسفہ، تاریخ، شاعری اور مذہب نمایاں ترین پہلو ہیں، تاہم ان کی عظمت کا ایک انتہائی اہم پہلو ان کے معاشی افکار ہیں جو ان کی باقی تمام فکری جہات پر غالب نظر آتا ہے۔
علامہ اقبال معاشیات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ اقبال نے اپنا پہلا طویل مضمون قومی زندگی لکھا تھا جس میں قومی ترقی کے حوالے سے صنعتی سرگرمیوں پر بحث کی تھی۔ 3-1904 میں علامہ اقبال کی پہلی نثری کتاب "علم الاقتصاد” معاشیات پر اردو میں اولین کتابوب کی فہرست میں شامل کی جاتی ہے جس میں زندگی میں اقتصاد اور اخلاق کے باہمی تعلق کو ابھارا گیا ہے۔مشہور ماہر اقبالیات ممتاز حسن کے بقول علم الاقتصاد اردو زبان میں جدید معاشیات پر پہلی کتاب ہے۔اس لحاظ سے اقبال کی علم الاقتصاد اردو زبان میں اولیت اور اہمیت کے حوالے سے تاریخی حیثیت کی حامل کتاب ہے۔
ان کے کلام پر غور کریں تو ان کی تمام شاعری کے پس منظر میں اقتصادی نظریات اور ان کے درمیان تصادم واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ علامہ اقبال کے اس فکری پہلو کی اہمیت کا جس قدر تقاضا تھا، اس کے مطابق منظم انداز میں ان کے معاشی افکار پر زیادہ کام نہیں ہوا۔
اقبال کے نزدیک ہم معیشت کو پڑھے اور اسے اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائے بغیر آپ ترقی نہیں کر سکتے۔
افکارِ اقبال کی تفہیم کے لیے ان کے عالمی اور فکری ادوار کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ان کی شاعری ، فلسفے اور افکار کا پہلا دور لاہور میں ان کے ایام طالب علمی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج میں بطور استاد کا ہے۔
یہیں سے 1905ء میں وہ فلسفے میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے یورپ روانہ ہوئے۔ یورپ سے ان کی واپسی 1908ء میں ہوئی۔ ان کے اُردو اور فارسی کلام کا زیادہ تر وقیع اور فکری حصہ اسی دور میں تشکیل پایا۔
اقبال کی نظر میں،زندگی کا معاشی نظام:
مستحکم معاشی نظام کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ بھوک زندگی کی دشمن ہے، رزق حلال عین عبادت ہے۔ ابتدائے آفرینش سے انسان کسی نہ کسی طور محنت شاقہ کے بل بوتے پر انفرادی اور اجتماعی خوش حالی کے لیے کام کر رہا ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا ۔ ہمارے مشاہیر نے براعظم پاک وہند کے مسلمانوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے بہت سے نظریات پیش کیے۔
اقلیمِ سخن ، ترجمان حقیقت ، گنجینہ علم و آگہی ، مفکر پاکستان اور مفسر اسلام ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (1877-1938) نے اربابِ دانش کو مختلف گنج ہائے گراں مایہ سے فیض یاب کیا ۔
معاشی مسائل سے اقبال کی دلچسپی ان کی شاعری میں بھی جابجا جھلکتی ہے۔ خضر راہ میں شاعر جنابِ خضر سے سوال کرتا ہے:
زندگی کا راز کیا ہے ؟ سلطنت کیا چیز ہوتی ہے ؟
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش ؟
خضر کا جواب ایک پیغام کی صورت بندہ مزدور کے نام کچھ یوں ہے:
مکر کی چالوں سے لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اٹھ کہ بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
علامہ اقبال کے افکار معیشت کا پہلا بھرپور اظہار اور اس موضوع کے ساتھ ان کی دل بستگی ان کی تصنیف علم الاقتصاد سے سامنے آئی۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اقبال کی علمی کوششوں کا پہلا 1903ء میں علم الاقتصاد کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا ۔
مشہور ماہر اقبالیات ممتاز حسن کے بقول علم الاقتصاد اردو زبان کی جدید معاشیات پر پہلی کتاب ہے اور اس میں پیش کیے گئے حقائق اور معاشی افکار آج بھی مسلمہ حقیقت کے طور پر موجود ہیں۔
معاشیات کے مسائل اقبال کی علمی و فکری زندگی کی سب سے بڑی دلچسپی نہ بن سکے مگر انہیں اس موضوع سے عمر بھر گہری دلچسپی رہی۔
اقبال کے فکر کا نچوڑ یہ ہے کہ معاشرت ہو یا معیشت اسلام ہی وہ واحد نظام ہے جو مساوات ، انسان کی عزت وآبرو اور اس کے روحِ وشکم کے مسائل کا حل پیش کرتاہے۔ اقبال اپنی شاعری اور فکر میں اس امر کے داعی ہیں کہ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا ظہور ممکن ہے۔اگر مسلمان اپنی مذہبی تعلیمات ، نئے علم و ہنر کی تخلیق و تحصیل ، اجتہاد خود انحصاری اور عشق ومستی کے اسی جذبے کو پھرسے اپنا سکیں جس کی وجہ سے مسلمان کئی سو سال دنیا کے افق پر غالب رہے۔
علامہ اقبال نے 1906 میں منشی دیا نراین کے نام ایک خط میں تحریر کیا:
” ہمارے اہل رائے سیاسی آزادی سیاسی آزادی پکارتے رہتے ہیں مگر کوئی شخص اس باریک اصول کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ سیاسی آزادی کی شرائط میں سب سے بڑی شرط کسی ملک کا اقتصادی دوڑ میں سبقت لے جانا ہے۔”
علامہ اقبال کا معاشی تصور بڑا واضح ہے اس میں استحصال اور ناانصافی نہیں بلکہ مساوات ہے۔ علامہ اقبال چاہتے تھے کہ ریاست کے ہر شہری کو زندہ رہنے کے لیے اسے بنیادی حقوق دیئے جائیں علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں اپنے معاشی تصور کو بیان کیا:
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
عیش کا پتلا ہے محنت ہے اسے ناسازگار
حکم حق ہے لیس للا نسان الا ما سعی
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو حرف قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
…….
