اسرائیل کے ناک میں نتھ ڈال دی ۔۔۔۔!!

تحریر: جاوید صدیقی

7 اکتوبر 2023 سے شروع ھونے اسرائیلی ظلم و ستم جاری رہنے کے باوجود اسے 57 مسلم ممالک میں سے کسی ایک نے نتھ نہیں ڈالی بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی غلامی اور تلوہ گری سے باز نظر نہیں آتے لیکن 57 ون اسلامی ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران نے ایمانی غیرت کا اظہار کرتے ھوئے بروز ہفتہ 13 اپریل 2024 کو اپنے سفارتی خانہ کا بدلہ لینے کیلئے 300 کے لگ بھگ میزائلوں سے حملے کئے جس سے اسرائیلی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا اور اسرائیل چوہے کی طرح دم دبا کے بل میں گھس گیا۔ اس جرآت مندانہ عمل پر میں جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی اسلامی جمہوریہ ایران کو مبارکباد پیش کرتا ھوں اور اب میں پاکستان کی تمام مذہبی و دینی جماعتوں گروہ بندیوں ، تنظیموں ، اسلامی تبلیغ کی تمام مسالک کے مراکز نے ابتک کتنے مریدین و عقیدت مند اور ذمہ داران کو اسرائیل کے خلاف جہاد کیلئے جوق در جوق گروہ بھیجے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ہزاروں مدارس کے تیار فورسس کو جہاد کیلئے کیوں نہیں بھیجا کیا یہ مدارس کی فورس مولانا کی دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے بنی ھے۔ کراچی کے مرکز فیضان مدینہ ھو یا مرکز رائیونڈ ان سے تعلق رکھنے والے مریدین و عقیدت مندوں کی تعداد ایک کڑور سے زائد ھیں۔ ان دونوں مراکز میں کیا جہاد کو اسلامی اہم مقام سمجھا جاتا ھے کہ نہیں اس بابت انہیں وضاحت پیش کرنی چاہئے۔ جب کفار و مشرک دین محمدی ﷺ سے نبردآزما ھو تب تبلیغ کیلئے دو روزہ چلہ یا وقت لگانا مناسب نہیں بلکہ جہاد کیلئے اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو بھیجنا ہی دین محمدی ﷺ کا حق ھے۔ پاکستان کی بیشمار آبادی پیر و فقیر کو مانتی ھے مگر ان پیر و فقیروں نے اپنے اپنے آستانوں خانقانوں سے جہادی گروپ تیار کرکے باطل کے خلاف جہاد کیلئے روانہ کیوں نہیں کرتے۔ آج جس قدر جہاد سے بھاگ رھے ھیں یہ عمل افسوسناک ھے۔ مسالک میں اوندھے ھونے والے یہ بتائیں کہ آپ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو کافر کا فتویٰ دیتے تھکتے نہیں مگر اصل کافر سے جہاد کرنے سے کتراتے ھو جنھیں تم کافر قرار دے رھے تھے انہیں لوگوں نے اصل دین محمدی ﷺ کے دشمن کو خاک چٹائی بحرحال جبتک ھماری دینی جماعتیں دینی مراکز دینی تنظیمیں دینی گروہ اپنے اپنے اندر سے جہادی نہیں بھیجتے اس تک وقت حکومت پاکستان اور حکمران بھی ان ناخداؤں کی پرتش کرتے رھیں گے نہ اپنے اندر غیرت ایمانی کے جذبہ کو بیدار کرسکیں گے اور نہ ہی دینی تقاضہ کو سمجھ سکیں گے اسی لئے ھم عوام کو اپنی ایمانی قوت کو بیدار کرنا ھوگا اور دنیا بھر کے مشرکین و کفار کو بتانا ھوگا کہ اگر ھم 57 مسلم ممالک کی سرحدوں ، دین محمدی کے تقدس اور ھماری غیرت کو ٹھیس پہنچانے کی ذرہ برابر غلطی کی تو ھم تمہارے منہ توڑ دیں گے اور تمہیں واصل جہنم رسید کردیں گے۔ ان کفار و مشرکین کے اگر ھماری آستین میں چھپے سنپولے بھیٹے ھیں اور سہولتکار ھیں تو انہیں کچلنا اچھی طرح جانتے ھیں۔ امت مسلمہ بلخصوص پاکستانی عوام ان تمام دین محمدی ﷺ کی مذہبی و دینی مراکز تنظیم گروہ کو اب ہرگز ہرگز عطیات چندہ خیرات صدقہ نہ دیں پہلے ان سے ان رقوم کا حساب لیں اور جہادیوں کی تفصیلات طلب کریں کیونکہ آپ کی رقم حرام سے کمائی ھوئی نہیں اور نہ ہی آپ حرام میں شامل کرنا پسند کریں گے۔۔۔!!

Exit mobile version