تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا
انسانی جسم کے کچھ ٹشوز اور خلیوں کو توانائی کی زیادہ اور مسلسل ضرورت رہتی ہے، جیسے ہمارے جسم کے پٹھے ہیں، ہمارے دل کے پٹھے ہیں، ہمارا دماغ ہے۔ اور سب زندہ خلیوں کو "اے ٹی پی” Adenosine triphosphate نام کے ایک مالیکول کی صورت میں توانائی ملتی ہے۔ اور اس "اے ٹی پی” کو بنانے کے لیے فاسفیٹ چاہیے ہوتا ہے، یعنی جہاں زیادہ اور مسلسل اے ٹی پی ضرورت ہے وہاں مسلسل فاسفیٹ بھی موجود ہونا چاہیے۔ تو وہاں اس فاسفیٹ کو سٹور کرنے کے لیے "creatine/ کیرٹن” نام کا ایک مالیکول موجود ہوتا ہے۔ اس مالیکول کے ساتھ فاسفیٹ جڑا رہتا ہے (phosphocreatine) اور ضرورت کے مطابق یہ creatine اے ٹی پی بنانے کے لیے فاسفیٹ سپلائی کرتا رہتا ہے۔ یہ creatine بنتا تو جگر اور گردوں میں ہے لیکن وہاں سے پٹھوں اور دماغ میں آجاتا ہے، یعنی جہاں توانائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن اس creatine کے ساتھ ایک اور معاملہ بھی ہوتا ہے، وہ یہ کہ یہ کیمائی طور پر unstable ہوتا ہے، یعنی یہ ایک طرح سے ٹوٹتا رہتا ہے (خاص کر پٹھوں میں) اور اسکے ٹوٹنے سے ایک اور مالیکول بنتا ہے جسے "creatinine/کریٹانن” کہتے ہیں۔
یہ creatinine ایک فاسد مادہ ہوتا ہے۔ اور اپکو معلوم ہوگا کہ جسم کے فاسد مادے خون میں شامل ہوتے ہیں اور خون سے گردوں میں آتے ہیں اور وہاں سے پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں۔ اس creatinine کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔
اب اس کا گردوں کے ٹیسٹ سے کیا تعلق ہے تو دیکھی کہ creatinine چونکہ خون سے فلٹر ہوکر پیشاب میں آتا ہے اور اس کو فلٹر کرنے کا کام گردے کرتے ہیں تو اگر کسی کے گردے کسی وجہ سے صحیح کام نہیں کر رہے ہوں گے تو اس کے خون میں creatinine کا لیول بڑھ جائے گا، اور پیشاب میں کم ہوگا۔ اس طرح سے ہم creatinine کا لیول چیک کرکے گردوں کی کارکردگی دیکھ سکتے ہیں۔
ایک اور بات یہ بھی ہے کہ creatinine کے علاؤہ کچھ اور کیمکل بھی ایسے ہیں جو کہ جسم میں بطور فاسد مادے بنتے ہیں، اور پیشاب میں خارج ہوتے ہیں اور انکا لیول دیکھ کر بھی ہم گردوں کی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن creatinine کو باقیوں سے زیادہ بہتر مانا جاتا ہے۔
جیسا کہ یوریا (یوریا میں موجود نائٹروجن یعنی blood urea nitrogen)۔ یوریا اصل میں جگر میں بنتا ہے، اور پروٹین کے میٹابولزم کی وجہ سے بنتا ہے۔ تو اگر کوئی زیادہ پروٹین لیتا ہے تو یوریا بھی زیادہ بنے گا، ایسے میں خون میں یوریا کا بڑھا ہونا گردوں کی خرابی کی وجہ نہیں ہوگا بلکہ زیادہ پروٹین کی وجہ سے ہوگا۔ یا اگر کسی کا جگر خراب ہے، تو وہ جگر پروٹین کا میٹابولزم کم کرے گا، جس سے کم یوریا بنے گا، اور گردوں کی درست کارکردگی کا پتہ نہیں لگ سکے گا۔ اس کے علاؤہ گردوں میں جتنا یوریا خون سے نکالا جاتا ہے، اس کا ایک حصہ گردے واپس خون میں شامل کر دیتے ہیں۔ البتہ creatinine کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، اس لیے اس کے لیول سے گردوں کی کارکردگی کا بہتر اندازہ ہوجاتا ہے۔
