ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات میں صدر اردوان اور ان کی جماعت کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے، دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ملک کے 9 شہروں میں میئر کی نشستوں پر حزبِ اختلاف کے امیدوار آ گے۔استنبول کے میئر امام اوغلو کو تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگئی، انقرہ میں موجودہ اپوزیشن میئر منصور یاواش کی جیت کا جشن منانے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔واضح رہے کہ ترکیہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔بلدیاتی انتخابات کے دوران صدر اردوان کے جمہور اتحاد (پیپلز الائنس) اور حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔استنبول میں آدھے سے زیادہ ووٹوں کی گنتی میں استنبول کے میئر امام اوغلو، میئر کی دوڑ میں تقریباً 10 فیصد پوائنٹس کے ساتھ آگے ہیں۔حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) نے انقرہ کے علاوہ ملک کے بڑے شہروں میں میئر کی 9 دیگر نشستیں بھی حاصل کر لی ہیں۔ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں موجودہ اپوزیشن میئر منصور یاواس کی جیت کا جشن منانے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے بھی صدر اردوان اور ان کی اے کے پارٹی (AKP) کی کارکردگی، استنبول میں ایگزٹ پولز کی پیش گوئی سے بھی بدتر رہی۔ 2019 میں بھی ریپبلکن پیپلز پارٹی کے اکرم امام اوغلو نے استنبول میں دو دہائیوں سے برسر اقتدار اردوان اور ان کی جماعت کے امیدوار کو شکست دی تھی۔ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات میں 81 صوبوں اور 973 اضلاع سمیت 390 قصبوں میں میئر کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔
ترکیہ بلدیاتی انتخابات، حزب اختلاف کے امیدوار انقرہ اور استنبول سمیت 9 شہروں میں آگے
