اکتوبر 31, 2026

مکہ دفاعی معاہدے میں ایران سمیت دیگر ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں بالکل رکاوٹ نہیں ہیں اور علاقائی امن کے مشترکہ ویژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سمیت کوئی بھی ملک علاقائی امن کے مشترکہ ویژن پر یقین رکھتا ہے تو وہ اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم نئے ممالک کی معاہدے میں شمولیت کا حتمی فیصلہ سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی۔

تہران کے ساتھ سفارتی پیشرفت پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل کا ایک ماہ میں دو بار تہران جانا مثبت پیشرفت کی علامت ہے۔ اگر مثبت پیشرفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو بار تہران کا دورہ نہ کرتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سے متعلق محتاط انداز میں پرامید ہے، تاہم امریکا اور ایران کی ثالثی کے عمل میں کام بگاڑنے والے اور بلاجواز تنقید کرنے والے طاقتور عناصر سرگرم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع اور جنگ ان کے مفاد میں ہے۔

سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور مکہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا دفاع پاکستان کے عزم کا بنیادی حصہ ہے۔ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار صورتحال اور سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے اور یمن کا تنازع وہاں کے اندرونی فریقوں کے درمیان ہے۔

انٹرویو کے آخر میں صوبائی سکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا۔