از قلم: فیصل جنجوعہ
ہمارے معاشرے میں جب بھی تعلیمی نتائج خراب ہوتے ہیں، امتحانات میں طلباء کی بڑی تعداد ناکام ہوتی ہے یا تعلیمی معیار میں گراوٹ کی شکایات سامنے آتی ہیں تو سب سے پہلے انگلی استاد کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی تعلیمی زوال کا واحد ذمہ دار استاد ہے، یا ہم ایک ایسے نظام کا دفاع کر رہے ہیں جس میں ہر فریق اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتا ہے؟ اگر کسی امتحان میں 70 فیصد طلباء ناکام ہو رہے ہیں تو یہ محض اساتذہ کی ناکامی قرار دے کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صورتِ حال پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ اساتذہ کی تدریسی صلاحیت، طلباء کی محنت، والدین کی نگرانی، نصاب کی افادیت، امتحانی نظام اور تعلیمی پالیسیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ آخر ہم کب تک اصل وجوہات تلاش کرنے کے بجائے کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بناتے رہیں گے؟ استاد سے نتائج تو مطلوب ہیں، مگر کیا اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ضروری ماحول اور اختیارات بھی حاصل ہیں؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں استاد کو طلباء کی غفلت، مسلسل غیر حاضری، ہوم ورک مکمل نہ کرنے اور سبق یاد نہ کرنے پر مؤثر انداز میں جواب دہ ٹھہرانے کے مواقع محدود محسوس ہوتے ہیں۔ بعض اوقات استاد کی تنبیہ کو بھی شکایت کا موضوع بنا دیا جاتا ہے، جبکہ طالب علم کی تعلیمی کوتاہی پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً بعض طلباء میں یہ سوچ پیدا ہو سکتی ہے کہ محنت کریں یا نہ کریں، امتحان کی تیاری کریں یا وقت ضائع کریں، ان سے بازپرس کا امکان کم ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ استاد کے اختیارات کا مطلب جسمانی سزا، تذلیل یا خوف کی فضا پیدا کرنا نہیں۔ استاد کو ایسا باوقار اور مؤثر اختیار ملنا چاہیے جس کے ذریعے وہ نظم و ضبط قائم رکھ سکے، طلباء کو تعلیمی ذمہ داریوں کا پابند بنا سکے اور مسلسل غفلت کی صورت میں مناسب اصلاحی اقدامات کر سکے۔ اختیار کے بغیر ذمہ داری کا مطالبہ اور جواب دہی کے بغیر آزادی، دونوں تعلیمی نظام کو کمزور کرتے ہیں دوسری جانب طلباء اور والدین کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا بھی ناانصافی ہے۔ کیا صرف اسکول میں داخلہ دلوا دینا والدین کی ذمہ داری پوری ہونے کے مترادف ہے؟ کیا بچے کی روزانہ کی حاضری، ہوم ورک، مطالعے، موبائل کے استعمال اور امتحانی تیاری کی نگرانی ضروری نہیں؟ اگر طالب علم گھر پر وقت ضائع کرتا رہے، اسکول میں سبق پر توجہ نہ دے اور امتحان کے دنوں میں بھی سنجیدگی اختیار نہ کرے تو اس کے تمام نتائج کا بوجھ استاد پر ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟تعلیم محض کلاس روم میں استاد کے لیکچر کا نام نہیں بلکہ یہ اسکول، گھر اور طالب علم کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔ استاد راستہ دکھاتا ہے، والدین اس سفر میں رہنمائی کرتے ہیں اور طالب علم کو خود محنت کرکے منزل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک فریق اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو تعلیمی نتائج متاثر ہونا فطری امر ہے۔ یہاں نظامِ تعلیم کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ غیر مؤثر پالیسیاں، غیر ضروری تعلیمی سرگرمیاں، نصاب کا دباؤ، تدریسی وسائل کی کمی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت سے غفلت اور امتحانات میں رٹّے پر انحصار جیسے مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر تعلیمی پالیسی بنانے والے نتائج کی ذمہ داری نچلی سطح پر منتقل کرکے خود احتسابی سے بچتے رہیں تو اصلاح کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ استاد قصوروار ہے یا طالب علم، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کر رہا ہے؟ اگر نتائج خراب ہیں تو استاد کی تدریسی کارکردگی کا جائزہ ضرور لیا جائے، لیکن اسی کے ساتھ طلباء کی حاضری، روزانہ کی کارکردگی، والدین کے تعاون، امتحانی معیار اور ادارے کی انتظامی پالیسیوں کو بھی جانچا جائے۔ اگر کوئی استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو اس کا احتساب ہونا چاہیے، مگر اگر استاد نے پوری محنت کی اور طلباء نے سنجیدگی اختیار نہیں کی تو اسے بلا تحقیق سزا دینا بھی ناانصافی ہے۔ تعلیمی اصلاح کا راستہ الزام تراشی سے نہیں، شفاف احتساب اور مشترکہ ذمہ داری سے نکلتا ہے۔ اساتذہ کو عزت، تربیت اور مناسب اختیارات دیے جائیں؛ طلباء کو محنت، نظم و ضبط اور تعلیمی ذمہ داری کا پابند بنایا جائے؛ والدین کو فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے اور تعلیمی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ استاد کو بے اختیار کرکے اس سے غیر معمولی نتائج کی توقع رکھنا بھی غلط ہے اور ہر ناکامی کا ذمہ دار استاد کو ٹھہرا کر طلباء، والدین اور نظام کو بری الذمہ قرار دینا بھی۔
قوموں کا مستقبل محض امتحانی نتائج کے اعدادوشمار سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی بنیادوں، ذمہ دار طلباء، باشعور والدین، بااختیار اساتذہ اور منصفانہ نظام سے تعمیر ہوتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ ہمیں صرف ناکامی کے بعد کسی کو سزا دینی ہے یا ناکامی کی وجوہات تلاش کرکے تعلیمی نظام کو بہتر بھی بنانا ہے۔ کیونکہ جب تک ہم مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچیں گے، نتائج کی اصلاح محض نعروں تک محدود رہے گی۔استاد کو مجرم بنانے سے پہلے نظام کا محاسبہ کیجیے، طالب علم کو ذمہ داری کا احساس دلائیے اور والدین کو ان کے کردار کی اہمیت سمجھائیے۔ یہی تعلیمی اصلاح کا راستہ ہے اور یہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد!
