از قلم: فیصل جنجوعہ
استاد کی ڈانٹ ڈپٹ بظاہر سخت محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اکثر اس کے پیچھے شاگرد کی اصلاح، کردار سازی اور بہتر مستقبل کی فکر پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس والدین کی بے جا محبت، ضرورت سے زیادہ لاڈ اور ہر غلطی پر پردہ ڈالنے کی عادت بعض اوقات بچوں کی شخصیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے محبت کے نام پر بچوں کو غلطی کرنے کی آزادی تو دے دی ہے، لیکن اپنی اصلاح قبول کرنے کا حوصلہ چھین لیا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تربیت کے بنیادی اصول تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ہر میدان میں کامیاب ہوں، لیکن جب استاد ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو بعض والدین اصلاح کو دشمنی سمجھنے لگتے ہیں۔ بچے کی شکایت سننے سے پہلے استاد کو قصوروار ٹھہرا دینا، معمولی ڈانٹ پر اسکول پہنچ جانا اور اپنے بچے کی ہر حرکت کا دفاع کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور تربیتی عمل کو متاثر کرتا ہے۔ بچے سے محبت کرنا اور اس کی ہر غلطی کو درست قرار دینا دو الگ باتیں ہیں۔ حقیقی محبت وہ نہیں جو بچے کو ہر مشکل سے بچا لے، بلکہ وہ ہے جو اسے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کے قابل بنائے۔ استاد جب کسی طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے، بدتمیزی کرنے، وقت ضائع کرنے یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر ڈانٹتا ہے تو اس کا مقصد محض ناراضی کا اظہار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ذمہ داری کا احساس دلانا ہونا چاہیے۔ ایک مخلص استاد طالب علم کی وقتی ناراضی برداشت کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کے مستقبل کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ استاد کی سختی اسی وقت قابلِ احترام ہے جب اس میں انصاف، شائستگی اور شاگرد کی بھلائی کا جذبہ شامل ہو۔ تذلیل، تشدد اور توہین کو تربیت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ آج المیہ یہ ہے کہ بعض بچے استاد کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے گھر جا کر شکایت کرتے ہیں، اور بعض والدین حقیقت جاننے کی کوشش کیے بغیر استاد سے جواب طلب کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ اپنی اصلاح کے بجائے اپنی غلطی چھپانے کا ہنر سیکھتا ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ گھر میں اس کی حمایت کرنے والے موجود ہیں، لہٰذا اسے اپنے رویے کی ذمہ داری اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ رویہ صرف استاد کی عزت کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ بچے کے مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عملی زندگی میں ہر جگہ والدین موجود نہیں ہوں گے۔ وہاں غلط فیصلوں کے نتائج خود بھگتنا پڑیں گے، اور ہر شخص اس کی غلطی کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اگر بچپن میں اسے برداشت، نظم و ضبط، اختلاف قبول کرنے اور اپنی غلطی ماننے کی تربیت نہیں دی گئی تو زندگی کی معمولی تنقید بھی اس کے لیے ناقابلِ برداشت بن سکتی ہے۔ استاد محض کتاب پڑھانے والا شخص نہیں، بلکہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما ہے۔ والدین بچے کو جنم دیتے ہیں، اس کی بنیادی تربیت کرتے ہیں، جبکہ استاد اس کے علم، شعور، رویے اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: بچے کو ایک ذمہ دار، باکردار اور کامیاب انسان بنانا۔ اس لیے والدین اور اساتذہ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بننا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی شکایت پر فوری ردعمل دینے کے بجائے معاملے کی مکمل حقیقت معلوم کریں۔ استاد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی اتھارٹی کو ذمہ داری سمجھے، غصے کا جواز نہ بنائے اور ہر طالب علم کے ساتھ عزت و انصاف کا برتاؤ کرے۔ آخر میں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں یا قابل بھی بنانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ ہر خواہش پوری کر دینا محبت نہیں، اور ہر غلطی پر خاموش رہنا شفقت نہیں۔ حقیقی محبت وہ ہے جو بچے کو اچھے اور برے میں فرق کرنا سکھائے، جبکہ حقیقی استاد وہ ہے جو علم کے ساتھ کردار بھی سنوارے۔استاد کی عزت دراصل علم، تربیت اور شعور کی عزت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں باکردار، خوداعتماد اور ذمہ دار ہوں تو ہمیں استاد کی جائز اصلاح کو برداشت کرنا اور بچوں کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دینا ہوگا۔والدین کا لاڈ بچے کو خوشی دے سکتا ہے، لیکن محبت کے ساتھ کی گئی بروقت اصلاح اسے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
