تحریر: ہارون الرشید
پچھلے کالم میں ہم نے جعلی کالز اور پیغامات سے بچاؤ کی بات کی تھی۔ آج سوال یہ ہے کہ جب ہم خود اے آئی سے کچھ پوچھتے ہیں تو اس کے جواب پر کتنا بھروسا کریں۔ موبائل پر سوال لکھیں تو چند سیکنڈ میں صاف، تفصیلی اور پراعتماد جواب آ جاتا ہے اور دل مان لیتا ہے۔ مگر انداز کا پراعتماد ہونا الگ بات ہے اور بات کا درست ہونا الگ۔ اے آئی کا لکھا ہوا جواب خود بخود تصدیق شدہ حقیقت نہیں بن جاتا۔ اسی لیے دھوکے سے بچنے کے لیے صرف جعلی کال یا پیغام پہچاننا کافی نہیں، ہر اہم معلومات کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
اے آئی کے ایسے غلط جواب کو "ہیلوسینیشن” کہا جاتا ہے، یعنی ایسی بات جو سننے میں معقول لگے مگر درست نہ ہو۔ اوپن اے آئی کے محققین کی ستمبر 2025 کی تحقیق کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جانچ کے موجودہ طریقے "معلوم نہیں” کہنے والے ماڈل کو کم اور اندازہ لگانے والے کو زیادہ نمبر دیتے ہیں۔ نئے ماڈلز میں ایسی غلطیاں کم ہوئی ہیں مگر ختم نہیں ہوئیں۔ اس لیے اے آئی کو مددگار سمجھیں، مگر اس کی ہر بات کو آنکھ بند کر کے نہ مانیں۔
دین کے معاملے میں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مصر کے دارالافتاء نے اپنی ویب سائٹ پر شائع فتوے (نمبر 8856) میں، جو جنوری 2026 میں خبروں میں آیا، لکھا کہ قرآن کی تفسیر کے لیے اے آئی ایپس پر مکمل انحصار شرعاً ممنوع ہے اور ان سے معانی اکیلے حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ حکم قرآن کی تفسیر کے بارے میں تھا، ہر قسم کے استعمال پر پابندی نہیں تھی۔ عملی بات یہ ہے کہ اے آئی سے کسی بات کا مفہوم سمجھنے یا حوالہ ڈھونڈنے میں مدد لی جا سکتی ہے، مگر آیت یا حدیث کا حوالہ ملے تو اصل کتاب میں خود دیکھیں۔ فتویٰ، حدیث کی صحت، حلال و حرام، طلاق اور وراثت جیسے مسائل میں کسی مستند عالم یا دارالافتاء سے رجوع کریں، کیونکہ ہر شخص کے حالات الگ ہوتے ہیں۔
صحت کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ فروری 2026 میں نیچر میڈیسن میں شائع آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک بڑی تحقیق میں برطانیہ کے 1,298 افراد کو طبی منظرناموں میں بیماری پہچاننے اور اگلا قدم طے کرنے کا کام دیا گیا۔ جنہوں نے اے آئی کی مدد لی، ان کے فیصلے ان لوگوں سے بہتر نہیں تھے جو عام طریقے، یعنی زیادہ تر انٹرنیٹ سرچ، استعمال کر رہے تھے۔ تحقیق کے مطابق مسئلہ اکثر بات چیت میں تھا: لوگ پوری معلومات نہیں دیتے تھے اور اے آئی کی کئی تجاویز میں سے درست کا انتخاب مشکل ہوتا تھا۔ یہ نتیجہ اسی تحقیق میں آزمائے گئے ماڈلز کا ہے، ہر اے آئی کا نہیں۔ اس لیے اے آئی سے بیماری یا دوا کو عمومی طور پر سمجھنا ٹھیک ہے، مگر تشخیص، علاج اور دوا بدلنے یا بند کرنے کا فیصلہ ڈاکٹر کا کام ہے۔ سینے میں درد، سانس کی تکلیف یا بے ہوشی جیسی ہنگامی کیفیت ہو تو اے آئی کے جواب کا انتظار نہ کریں، فوراً قریبی ہسپتال جائیں۔
ہمارے کسان بھائیوں کے لیے ایک رپورٹ شدہ واقعہ بھی سبق رکھتا ہے۔ چینی میڈیا (لیچی نیوز) کی اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایک 67 سالہ کسان نے اے آئی ایپ سے تل کی فصل کے لیے جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کا علاج پوچھا اور اسی کے مطابق پورے کھیت پر چھڑکاؤ کر دیا۔ اگلے دن تقریباً 25 ایکڑ کے پودے سوکھ گئے۔ زرعی ماہرین کے مطابق منصوبے میں شامل دوا سویابین کے کھیتوں کے لیے تھی، تل کے لیے نہیں۔ یہ تفصیل ایک ہی ابتدائی رپورٹ پر مبنی ہے جسے دوسرے اداروں نے دہرایا ہے، اس لیے اسے رپورٹ شدہ واقعہ ہی سمجھیں۔ سبق یہ ہے کہ دوا کے لیبل پر درج فصل اور مقدار دیکھیں، اور سپرے سے پہلے قریبی زرعی ماہر سے پوچھیں۔ محکمہ زراعت پنجاب بھی اپنی ویب سائٹ پر فصلوں کی ایڈوائزری شائع کرتا ہے۔
پچھلے کالم کی بات یہاں پھر جڑتی ہے، کیونکہ فراڈ کرنے والے بھی اے آئی کو آزما رہے ہیں۔ امریکی ادارے ایف ٹی سی کے مطابق جعل ساز کو آپ کے کسی عزیز کی آواز کا مختصر سا نمونہ چاہیے ہوتا ہے، جو آن لائن مواد سے مل سکتا ہے، اور پھر وہ اسی جیسی آواز میں فون کر سکتا ہے۔ ادارے کا مشورہ ہے کہ آواز پر بھروسا نہ کریں، اس شخص کے جانے پہچانے نمبر پر خود کال کریں، اور نہ ملے تو کسی دوسرے رشتہ دار یا دوست سے رابطہ کریں۔ ایک فرضی مثال (یہ حقیقی واقعہ نہیں): بیرونِ ملک کام کرنے والے بیٹے کی آواز میں رات کو کال آتی ہے کہ فوراً پیسے بھیجیں۔ گھبراہٹ میں رقم بھیجنے کے بجائے اس کے پرانے نمبر پر ایک کال کر لی جائے تو بات کھل جاتی ہے۔ اس لیے جانی پہچانی آواز شناخت کا ثبوت نہیں، پیشہ ورانہ انداز کا پیغام اصلی ہونے کی دلیل نہیں، اور اسکرین شاٹ یا اے آئی کی وضاحت سچائی کی گارنٹی نہیں۔ فراڈ ہو جائے تو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ہیلپ لائن 1799 پر رابطہ کریں یا complaint.nccia.gov.pk پر شکایت درج کریں۔
تو اے آئی کے جواب کو پرکھیں کیسے؟ پہلے دیکھیں کہ اس نے ٹھیک ٹھیک کہا کیا ہے۔ پھر جس کتاب، قانون یا ادارے کا حوالہ دیا گیا ہو اسے خود کھول کر دیکھیں کہ وہ موجود ہے اور وہی کہتا ہے۔ اس کے بعد کسی دوسرے آزاد اور معتبر ذریعے سے ملائیں، اور یاد رکھیں کہ چار ویب سائٹس اگر ایک ہی خبر دہرا رہی ہوں تو وہ ایک ہی ذریعہ ہے۔ ایک ہی اے آئی سے دوبارہ پوچھ کر تصدیق بھی کافی نہیں۔ پھر معلومات کی تاریخ دیکھیں اور یہ بھی کہ وہ آپ کی جگہ، آپ کی فصل اور آپ کے حالات پر لاگو ہوتی ہیں یا نہیں۔ بیماری میں ڈاکٹر، دینی مسئلے میں مستند عالم، فصل میں زرعی ماہر اور قانونی معاملے میں وکیل سے پوچھیں۔ اور سب سے آخر میں، پیسے بھیجنے، دوا کھانے، کھیت پر سپرے کرنے یا شناختی معلومات دینے سے پہلے ایک لمحہ رک جائیں۔ یاد رکھنے کے لیے بس چھ لفظ کافی ہیں: دعویٰ، ماخذ، تصدیق، تاریخ، ماہر، توقف۔
اے آئی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ درخواست لکھنے، مشکل بات آسان کرنے اور خلاصہ بنانے میں واقعی مدد دیتا ہے۔ بس اسے ایک تیز مگر کبھی کبھی غلط ہو جانے والا مددگار سمجھیں، آخری فیصلہ کرنے والا نہیں۔ اے آئی سے پوچھیں، مگر عمل سے پہلے پرکھیں۔
