شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام کی دہلیز پر اداروں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، اور صوبے میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے، اور ان منظور شدہ پوسٹوں پر افسران و عملہ بہت جلد تعینات کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کے چھوٹے ہونے سے سول حکومت اور متعلقہ محکموں تک عام عوام کی رسائی میں بڑی آسانی پیدا ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس پر بحث کا آغاز آج ضرور ہوا ہے لیکن انہوں نے یہ عمل دو سال پہلے شروع کیا تھا، کیونکہ بلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے کو عوام کی حقیقی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔ رکھنی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رکھنی میں ترقی کو کرپٹ مافیا اور کمیشن کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جہاں ترقیاتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور اب اسے ایک مثالی ڈویژن بنانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
گوادر کے سکیورٹی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ گوادر میں فتنۃ الخوارج کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی انتہائی قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف بہادر افواج، ایف سی اور پولیس کی قربانیاں اور کارکردگی انتہائی قابل فخر ہے، جبکہ اگست کے بعد سے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کے رجحان میں کمی آنا ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے اس ناسور کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جرات مندانہ کارروائیاں پوری قوم کے لیے تحسین کا باعث ہیں۔
