یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر روس کی اصولی آمادگی

روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اصولی طور پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اعلیٰ معاون یوری اوشاکوف نے یہ بیان سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا۔

اوشاکوف کے مطابق مذاکرات کا نیا دور آئندہ ماہ منعقد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا نیا دور تقریباً 10 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ہو سکتا ہے، اور زور دیا کہ ان مذاکرات کا بنیادی محور تنازع کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کے لیے ایک جامع سکیورٹی نظام کی تشکیل ہونا چاہیے۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی کئی ماہ سے ماسکو پر فروری میں معطل ہونے والے مذاکرات کو فوری طور پر بحال کرنے کے لیے مسلسل زور دے رہے تھے۔ دوسری جانب روس کئی ماہ سے ان مذاکرات سے گریز کرتا رہا ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یوکرین کو روس کے شدید میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف پیر کے روز ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں صدر زیلنسکی کے علاوہ ناروے اور فن لینڈ کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے تھے۔ اگرچہ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ وٹکوف صدر پیوٹن کے لیے کون سی مخصوص تجاویز لے کر آئے تھے، تاہم زیلنسکی نے اوسلو میں مذاکرات کے بعد بتایا تھا کہ یوکرین کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی تجاویز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ تاہم روسی معاون اوشاکوف نے ان تجاویز کو زیادہ مفید قرار نہیں دیا۔

بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، جو ان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نے منگل کو اوسلو میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان تکنیکی سطح پر سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار کے مطابق یوکرین نے گزشتہ روز اوسلو میں اس تجویز کو قبول کر لیا تھا، جبکہ روس نے آج سینٹ پیٹرزبرگ میں اسے تسلیم کر لیا ہے۔

اوشاکوف نے مزید بتایا کہ صدر پیوٹن نے وٹکوف سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ روسی فوج وسیع محاذ پر ہر جگہ پیش قدمی کر رہی ہے اور اسے واضح اسٹریٹجک برتری حاصل ہے۔

واضح رہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے اعلیٰ حکام جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب صدر پیوٹن نے یوکرین پر مکمل حملے کا حکم دیا تھا۔ روس نے گزشتہ ماہ ہونے والے اپنے عام انتخابات کے دوران یوکرین کے بڑے پیمانے پر حملوں کو مذاکرات میں تعطل کا سبب قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بدھ کے روز صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے تحت موجودہ محاذِ جنگ کی حدود پر لڑائی روک دی جائے اور جنگ مکمل طور پر تھم جائے۔

Exit mobile version