تحریر: محمد مظہر رشید چودھری(03336963372)
ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت، غصے اور معمولی تنازعات پر تشدد کے رجحان کی ایک دردناک تصویراوکاڑہ کی سیٹھ کالونی، بے نظیر روڈ پر 8 اکتوبر 2026کو پیش آنے والا نوجوان عبدالرحمان کے قتل کا افسوس ناک واقعہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کیلے خریدنے کے معاملے پر 200 روپے کے لین دین سے شروع ہونے والی تلخ کلامی ایک نوجوان کی موت پر منتج ہوئی۔ عبدالرحمان چند روز قبل ہی اپنے بڑے بھائی عبداللہ کی وفات پر سعودی عرب سے پاکستان واپس آیا تھا۔ گھر والوں کو کیا معلوم تھا کہ غم کے اس ماحول میں انہیں ایک اور ایسا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا جس کے اثرات شاید عمر بھر باقی رہیں گے۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق، مقتول کے بھائی عبیداللہ اور پھل فروش طارق عرف تارا ،ماجد عرف ماجوکے درمیان رقم کے لین دین پر اختلاف ہوا۔ عبیداللہ کے بیان کے مطابق، تلخ کلامی کے بعد انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں عبدالرحمان اپنے بھائیوں اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شکوہ کرنے دکان پر پہنچے تو صورت حال دوبارہ کشیدہ ہوگئی۔ اہلِ خانہ اور عینی شاہد کے بیانات کے مطابق، اس دوران چھری کے وار سے عبدالرحمان شدید زخمی ہوا اور جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس کے بارے میں اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس میں واقعے کے اہم مناظر موجود ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کی حتمی حقیقت کا تعین پولیس تفتیش اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہونا چاہیے۔راقم الحروف (محمدمظہررشید چودھری اور مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ )مقتول عبدالرحمان کے گھر پہنچے اور اہلِ خانہ کی گفتگو سنی تو ان کے دکھ، غصے اور بے بسی کا اندازہ ہوا۔ مقتول کی چھ بہنوں اور دیگر عزیزوں کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور مقدمے کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ مقتول کی ساس اور زوجہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے، کیونکہ عبدالرحمان کی ایک کم سن بیٹی ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق،بیرون ملک ملازمت کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی سے پہلی بارہی ملاتھا۔مقتول کے بھائی محمد یحییٰ ،عبیداللہ ،محمد سعید ،عثمان اور دیگر اہلِ خانہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش موثر اور شفاف انداز میں آگے بڑھائی جائے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ تفتیشی ادارے کی معاونت حاصل کی جائے۔ خاندان نے مقدمے کے اندراج میں تاخیر، پولیس کے ابتدائی رویے اور لاش کو سرد خانے میں رکھنے کے انتظامات کے حوالے سے بھی شکایات کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کرنا پڑا۔ یہ شکایات اپنی جگہ اہم ہیں اور متعلقہ حکام کو ان کی جانچ کرکے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہیں، تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ایک عینی شاہد امان اللہ نے بھی اپنے بیان میں عبیداللہ پر تشدد اور بعدازاں عبدالرحمان کے زخمی ہونے کے واقعے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اہلِ خانہ انصاف کے منتظر ہیں اور واقعے کے حوالے سے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے مقدمات میں عینی شاہدین کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی شواہد اور دیگر متعلقہ مواد کو غیر جانب دارانہ انداز میں جانچنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ ذرائع ہیں جن کی بنیاد پر عدالت میں حقائق ثابت یا مسترد کیے جا سکتے ہیں۔

اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو سابق کونسلر میراں حسین کمبوہ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ مقتول کے خاندان نے ان پر ملزم کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کا نام مختلف بیانات میں لیا گیا ۔ دوسری جانب میراں حسین کمبوہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، وہ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کے حامی ہیں، تاہم ان کی جانب سے کسی قسم کی پشت پناہی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رشتہ داری یا تعلق کی بنیاد پر انہیں اور ان کے خاندان کو بلاوجہ اس معاملے میں گھسیٹنا درست نہیں۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی شخص پر الزام لگنا اور اس الزام کا قانونی طور پر ثابت ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، میراں حسین کمبوہ کا نام ایف آئی آر میں درج ہونے کے حوالے سے بھی وضاحت سامنے آئی ہے کہ وہ نامزد نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کے خلاف عائد کردہ الزامات کی تصدیق کے بغیر انہیں مجرم قرار دینا مناسب نہیں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام دعوؤں کا جائزہ لیں، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کریں اور کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کو تفتیش پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔تازہ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، قتل کے مقدمے میں ملزم گرفتار ہو چکا ہے اور پولیس تفتیش جاری ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ شواہد کی روشنی میں مقدمے کو کس طرح آگے بڑھایا جاتا ہے اور متاثرہ خاندان کو قانون کے مطابق انصاف کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ گرفتاری یقیناً تفتیش میں ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمے کی پیروی شفاف انداز میں ہو اور عدالت میں ثابت ہونے والے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔سانچ کے قارئین کرام! عبدالرحمان کا قتل ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ کیا دو سو روپے کی رقم کسی انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے؟ اختلاف، تلخ کلامی اور لین دین کے تنازعات زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کا حل تشدد نہیں، برداشت، مکالمہ اور قانون ہے۔ علمائے کرام، اساتذہ، والدین، سماجی رہنماؤں اور انتظامیہ کو معاشرے میں برداشت اور احترامِ انسانیت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عبدالرحمان کے خاندان کی فریاد سنی جائے، تمام الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور قانون کے مطابق انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ کسی بے گناہ کو سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے اور کسی قصوروار کو اثرورسوخ کی وجہ سے قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ یہی انصاف کا تقاضا اور ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم عبدالرحمان کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ہماری معاشرتی زندگی کو برداشت، امن اور احترامِ انسانیت سے آراستہ فرمائے۔ آمین۔