اکتوبر 29, 2026

ای او بی آئی پنشن کے لیے 15 سال کی شرط لازمی: وفاقی آئینی عدالت نے صدر مملکت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم کر دیے

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی پنشن کے لیے کم از کم 15 سال کی شراکت کو لازمی قرار دیتے ہوئے سابق بینک ملازم کی پنشن سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی محتسب اور صدرِ پاکستان کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

​تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان نے اس اہم کیس کا 12 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ تحریر کیا، جبکہ فیصلے میں شامل تین رکنی بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔

​مقدمہ سابق بینک ملازم جاوید اقبال بھٹی کی پنشن سے متعلق تھا، جن کی کل ملازمت 5 سال، 10 ماہ اور 8 دن رہی۔ انہیں 2015 میں 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ منظور ہوئی تھی، تاہم بعد میں وفاقی محتسب نے انہیں پنشن دینے کا حکم جاری کر دیا تھا۔

​عدالت کے مطابق پنشن کے لیے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی شراکت درکار ہوتی ہے۔ یکم جولائی 2008 سے بیمہ شدہ ہونے کے باعث درخواست گزار پانچ سال کی خصوصی رعایت کا اہل بھی نہیں تھا۔ عدالت نے صراحت کی کہ پہلے سے منظور شدہ گرانٹ سے پنشن کا حق پیدا نہیں ہوتا۔

​عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید واضح کیا کہ پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذاتِ خود بدانتظامی کے زمرے میں نہیں آتا۔ من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر کی شکایت اور پنشن کی قانونی اہلیت کا تنازع بالکل الگ امور ہیں۔ فوائد کی اہلیت، رقم اور مدت کا تعین ای او بی آئی قانون کے تحت ہوگا جس میں نظرثانی اور اپیل کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔

​عدالت نے اہم ترین قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ بغیر دائرہ اختیار جاری کیا گیا حکم، صدرِ پاکستان یا عدالت کی بعد کی توثیق سے بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا۔