پشاور: خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے گزشتہ حکومت میں ‘مارچ فکسڈ تھا’ سے متعلق دیے گئے بیان پر سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور شدید برہم ہو گئے ہیں، جس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے ان کا ایک تند و تیز آڈیو پیغام لیک ہو گیا ہے۔
لیک ہونے والے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلا پیغام مذاق میں بھیجا تھا لیکن پھر سوچا کہ یہ لیک ہو کر میڈیا پر چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکت اور بات بالکل زیب نہیں دیتی۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بھی بہت سی چیزیں اور ایک ایک بات کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ اگر انہوں نے وہ ریکارڈ عام کر دیا تو سب اس طرح ایکسپوز ہوں گے کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ وہ صرف بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کے احترام میں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو زبان استعمال کی گئی ہے اس میں انتہائی بڑا الزام لگایا گیا ہے۔ کوئی جو بھی ہے اپنے گھر میں ہے، مجھے ہر ایک کی اوقات کا پتہ ہے، احسان فراموشوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، احسان فراموشی اور بغض کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اس قسم کی بات یا بکواس بالکل برداشت نہیں کریں گے، لہٰذا دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے ہر کوئی اپنے کام پر فوکس کرے اور خود کچھ کر کے دکھائے۔
