نذرقلم: قاضی محمد فضل عثمان
استاذ محترم چوہدری غضنفر علی صاحب کا مختصر دورہ اٹلی
تیس ستمبر سے تین اکتوبر 2026 کے دوران گزرے پرلطف لمحوں کی سرگزشت
گزشتہ دنوں عزیز القدر دوست سید فیاض حسین شاہ اٹلی تشریف لائے تو دوران قیام سر غضنفر علی صاحب کا فون آیا کہ پیر جی رک جاؤ میں بھی آرہا ہوں ، لیکن ان کے آنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا اس لئے فیاض حسین شاہ صاحب کو واپس جانا پڑا ، لیکن مجھے یہ خوشی حاصل ہوئی کہ سر تشریف لا رہے ہیں ۔
جیسے ہی ناروے پہنچے اپنے اعزہ کے پاس تو ساتھ ساتھ فالو کررہے تھے کہ کب ہمارے پاس آتے ہیں ، خیر ناروے سے سویڈن پہنچے وہاں دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ ہوئی ابھی انکی پوسٹیں دیکھ کر دل بہلا رہے تھاکہ ایک پوسٹ نظر آئی کہ کچھ ہی دیر تک اٹلی کی سرزمین پر ہونگا ، میں حیرت کا شکار رہ گیا کہ سر نے بتایا نہیں اور آبھی رہےہیں ، میں نے اپنے آس پاس سر کے تعلق والوں اور عزیزوں سے رابطہ کیا ، سب بے خبرتھے ، پھر سویڈن میں سر کے میزبان اصغر علی چوہدری سے سن گن ملی کہ ان کا رابطہ اپنے اولین شاگرد رشید محمد فاروق سے ہے اور وہ بیرگامو ائیرپورٹ پر ان کو وصول کرلیں گے ،
خیر سے سر تشریف لائے فاروق بھائی نے رسیو کیا پھر اپنے گھر لے گئے ، پھر سر کا مجھے فون آیا کہ کیا پروگرام ہے ، میں نے عرض کیا کہ شام کو آپ کو لینے آرہے ہیں ، کہتے ہیں ٹھیک ہے میں منتظر رہوں گا
۳۰ ستمبر شام کو میں عزیز القدر طاہر فاروق قاضی ،بھائی شمس ، میاں عثمان اور وسیم کھٹانہ کے ہمراہ سر کو رسیو کرنے کے لئے روانہ ہوئے ، وہاں پہنچے چند لمحے بیٹھے پھر سر کو اپنے ہمراہ لیکر اس وعدے کے ساتھ کہ واپسی پہ سر فاروق بھائی سے ملاقات کریں گے ، ہم عازم سفر ہوئے ، رستے میں ششلاگو قصبے سے ایک ترکش ہوٹل پہ ڈنر کیا ، بہت مزیدار اور پرلطف کھانا ، سب نے پسند کیا ،طاہر فاروق قاضی میزبان بنے بصد اصرار ، پھر وہاں سے ہمارے گھر سر تشریف فرما ہوئے ، دوست احباب کو پتہ چل چکا تھا ، اب باری باری سب آنے کے لئے پر تول رہے تھے ، سب سے پہلے حسنین چوہدری نے صبح سویرے آلیا ، میں اور میاں عثمان ہمراہ تھے ، ہمیں کومو جھیل سیر کے لئے لے جایا گیا ، وہاں پرلطف لنچ تاج محل ہوٹل سے پھر کو مو جھیل کی سیر بڑی فیری پہ ایک چکر لگایا ، بہت خوبصورت مناظر تھے ۔ صاف شفاف جھیل کے پس منظر میں پہاڑیاں اور ان پر بنے چھوٹے جھوٹے بنگلہ نما گھر مختلف رنگوں میں جیسے نگینے جڑے ہوئے ہیں محسوس ہورہے تھے ، سر نے مع اپنے ہمراہیوں ے اس سیر سے بہت لطف اٹھایا۔ کومو جاتے جاتے ، بھائی قاضی حاجی فاروق احمد صاحب سے ان کی لوا جو پہ ملاقات ہوچکی تھی وہاں بلال احمد نے بھی ملاقات کی ، شوکت علی بھی بطور خاص سر سے ملے، بھائی فاروق صاحب نے شام کے کھانے کا وعدہ لیا ، وہ میں نے ان سے انڈر سٹنڈنگ کے ساتھ اپنے گھر اہتمام کے لئے کہ دیا ۔
کومو سیر سے واپسی پر گھر مزید مہمان بھی تشریف لائے ، عنصر علی بجاڑ ، اکرام ، سفیان ، اور سر کے بھانجے سفیر بھی آچکے تھے ، سب نے مل کر شام کا کھانا کھایا ، ہمارے گھر فاروق بھی حسب وعدہ تشریف لے آئے ، یوں یہ خوبصورت یادوں سے سجی محفل بپا ہوئی ، بہت پرلطف اور یاد گار محفل تھی جو ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ رہے گی ۔چائے پینے کے بعد یہ مجلس پایہ تکمیل تک پہنچی ، اس دوران بولو نیا والے دوست مسلسل رابطے میں تھے کہ ہمارے پاس کب پہنچیں گے ،
اسی دوران ظل عمر بیٹے سے فاسٹ ٹرین کی دو ٹکٹیں کرا لیں
افتخار مہر صاحب میرے جانے کی شرط بھی لگادی ، چاروناچار مجھے بھی تیار ہونا پڑا ۔
علی الصباح سر کو جگا کر گلراتے کے سٹی کے مرکز کی چلتے چلتے دھکے سے سیر کرادی ، پھر ٹرین سے بولونیا کا سفر شروع ہوا تو مہر صاحب نے کہا کہ مجھے چھٹی نہیں ملی اس لئے سٹیشن پہ لینے نہ آسکونگا ، ایمرجنسی میں امتیاز بھائی سے رابطہ کیا وہ تشریف لے آئے ، جیسے ہی باہر آئے ایک ہوٹل میں چائے پانی لئے رکے وہاں ٹوپہ عثمان کی معروف سماجی شخصیت چوہدری یاسر عرفات بھی تشریف لے آئے انہوں نے لنچ کا انتظام کررکھا تھا ، بیسٹ ریسٹورینٹ بلونیا میں ، کچھ وقت ان کے گھر بھی گئے ، انہوں بڑے اعزاز اور اکرام سے اپنے سر کا استقبال کیا ، کھانے کے لئے جب پہنچے تو کھانا واقعی بیسٹ تھا ، واپسی تک افتخار مہر بھی آچکے تھے ، حافظ اقبال صاحب بھی قریب ہی تھے ، جیسے سب لوگ پہنچے عزیز القدر چوہدری امتیاز نے ہوٹل باسو میں ہماری رہائش کے لئے انتظام کیا ہوا تھا ، پاس ہی ایک کافی شاپ میں لیٹ نائٹ گپ شپ لگی ، ایک بجے بستر پہ پہنچے صبح مہر صاحب نے پھر جگا لیا ،اپنے سٹور کے ساتھیوں سے ملوانے چلے گئے ، وہاں عبد الرحمان ملک بھی پہنچ گئے ، بھائی افضل مہر بھی تھی ، وہاں سے بمشکل نکلے تو حافظ اقبال صاحب نے شہر سے پیزا کھلانے کی ترکیب بنالی ، وہاں چوہدری غضنفر علی گورسی کے پیزا سے تازہ پیزا کھائے پھر عازم سٹیشن ہوئے دو گاڑیوں پہ ، عبد الرحمان ملک کے ساتھ میں بیٹھ گیا ، امتیاز بھائی ، حافظ اقبال اور سر ایک ساتھ دوسری گاڑی میں تھے ۔ جس میں ہمارا سامان بھی رکھا تھا ۔ہم وقت پہ اسٹیشن پہنچے تو وہاں یہ روح فرسا خبر ملی کہ میرا بیگ جس میں کچھ کپڑے موجود تھے ، کسی چور کی نذر ہوگیا ہے ، شکر ہے کوئی ضروری ڈاکومنٹ نہیں تجھے ورنہ مشکل ہوجاتی، صاحب لوگ گاڑی کی پارکنگ کی رسید نکالنے میں یوں مشغول ہوئے کہ کوئی ضروت مند بیگ اٹھا کے چلتا بنا ،کھولنے کے بعد پچھتایا ضرور ہوگا ، جب اس کے کام کی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ہوگی ۔بہر حال کچھ گنوا کے سبق حاصل ہوگیا ،
عبد الرحمان ملک نے ٹکٹ نکالیں ،بھائی امتیاز نے بلونیا سے الوداعی آئسکریم کھلائی یوں ہم بیگ لٹا کے دوبارہ تین سو کلومیٹر سپیڈ والی ای تالو ٹرین پر تھے ، میلان سینٹرل سٹیشن سے اندر کچھ وقت گزارا اتنے میں یاسر نذیر چوہان کی آمد ہوئی ، پھر ساتھ مل واپسی گلراتے کا سفر کیا ، شام سات بجے وہاں پہنچے ، اکرام منتظر پایا ، اکرام کی طرف سے عشائیہ کا اہتمام کسانو کےترکش ریسٹورینٹ میں کیا گیا ، رات کو دیر تک گپ شپ چلتی رہی ، عنصر علی بجاڑ سے صبح واپسی پہ وعدہ تھا ، تین اکتوبر صبح حسنین پھر ناشتے کے لئے ساتھ لے گیا ناشتہ ادھر سے کیا گیا ، وہاں عنصر علی مع واجد علی اور ایک صاحبزادے کے پہنچ گئے ، اب آگے کا سفر بیرگامو تک ان کے ساتھ طے تھا ، وقت پہ شروع ہوا ، کھانا وغیرہ فاروق کی مصاحبت میں عنصر کی طرف سے دیا گیا ، یوں یہ تین ہنگامہ خیز دن سر کی سیر کے ہمارے طرف سے اختتام پذیر ہوئے ، اب ان کی بارسلونا میں آمد ہوچکی ہے ، ۔
ہمارے ساتھ اتنے پرلطف لمحے گزارنے پر ہم سر غضنفر صاحب کے ممنون ہیں ، ساتھ میں ان تمام اصحاب کے جنہوں نے اپنی معیت سے سوشل میڈیا پر تبصروں کی شکل میں ہمارے اس سفر کو یاد گار بنایا ۔
یہ سطور سر کی فرمائش پر تحریر کردی ہیں تاکہ یادگار رہیں اور جن دوستوں نے کسی حوالے سے بھی شمولیت اختیار کی ہے ان کا شکریہ ادا کیا جاسکے ، دوبارہ جلد ہی ملاقات کی آس کے ساتھ
سب کے لئے خیر وعافیت اور سلامتی کی دعاوں کے ساتھ
جو چلے تو جاں سے گزر گئے تو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
راہ یار ہم نے تیری قسم تجھے یادگار بنادیا ۔۔۔۔
