از قلم: فیصل جنجوعہ
اسکول کی گھنٹی بجتی ہے، بچے اپنے بستے اٹھاتے ہیں اور خوشی خوشی گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ ہوتی ہے، کوئی نئی بات سیکھنے کی خوشی اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور کوئی اپنے استاد کے حوصلہ افزا الفاظ کو دل میں محفوظ کر لیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بچے اسکول سے چلے جانے کے ساتھ ہی استاد کا دن بھی ختم ہو جاتا ہے؟ ہرگز نہیں! بچوں کے گھر جانے کے بعد ایک مخلص استاد کے لیے ایک اور مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اگلے دن کے سبق کی تیاری، کلاس روم کی منصوبہ بندی، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ، کمزور بچوں پر خصوصی توجہ، انفرادی مسائل کو سمجھنا اور یہ سوچنا کہ کل کا دن آج سے بہتر کیسے بنایا جائے؟ یہ سب اسی خاموش محنت کا حصہ ہے جو عموماً نظر نہیں آتی۔ ایک اچھا استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ بچے کو پڑھنے کا مقصد سمجھاتا ہے۔وہ صرف سوال کا جواب نہیں دیتا، بلکہ بچے میں سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ وہ صرف نمبر حاصل کرنے کی دوڑ نہیں لگواتا بلکہ بچے کو کردار، نظم و ضبط، برداشت، احترام، ذمہ داری اور خود اعتمادی کا سبق بھی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلاس روم میں استاد کا ہر عمل ایک خاموش سبق ہوتا ہے۔ اس کی وقت کی پابندی، گفتگو کا انداز، بچوں کے ساتھ رویہ، مشکل صورتحال میں صبر اور اپنے فرائض سے وابستگی—یہ سب کچھ بچے غیر محسوس انداز میں سیکھتے ہیں۔ اسی لیے استاد کو صرف "سبق پڑھانے والا شخص” سمجھنا اس عظیم ذمہ داری کو محدود کر دینا ہے۔ استاد دراصل مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، افسر، کاروباری شخصیت، صحافی یا کسی بھی شعبے کا ماہر بننے سے پہلے ایک بچہ کسی استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس استاد کے ہاتھ میں صرف ایک کتاب نہیں ہوتی، بلکہ ایک پوری نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے میں استاد کی محنت کا بڑا حصہ وہ ہوتا ہے جو دکھائی نہیں دیتا۔ لوگ کلاس روم میں گزرنے والے چند گھنٹوں کو دیکھتے ہیں، مگر ان گھنٹوں کے پیچھے ہونے والی تیاری، منصوبہ بندی، ذہنی مشقت اور مسلسل توجہ کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک استاد بچے کی ایک چھوٹی سی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، اس کی ناکامی پر پریشان ہوتا ہے، اس کی غیر حاضری محسوس کرتا ہے، اس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور کئی مرتبہ وہ مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا تعلق صرف کتاب یا نصاب سے نہیں ہوتا۔ یہی تو استاد کی خاموش محنت ہے۔ استاد کا دیا ہوا علم شاید وقت کے ساتھ کتابوں سے آگے نکل جائے، مگر اس کا دیا ہوا اعتماد، کردار اور تربیت پوری زندگی بچے کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ ٹیچر ڈے ہمیں صرف اساتذہ کو مبارک باد دینے کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ سوال کرنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ کیا ہم اپنے اساتذہ کی محنت کو واقعی وہ مقام دیتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل باصلاحیت، باکردار، بااعتماد اور ذمہ دار شہری بنے تو ہمیں استاد کو محض ایک ملازم نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے معمار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ اسکول کی عمارتیں صرف اینٹوں سے نہیں بنتیں، ادارے صرف نصاب سے نہیں بنتے اور نسلیں صرف کتابوں سے نہیں سنورتیں۔ نسلیں اس وقت سنورتی ہیں جب ایک مخلص استاد اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت نہیں بلکہ مشن سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ آج ٹیچر ڈے کے موقع پر ہر اس استاد کو سلام جو بچوں کے جانے کے بعد بھی بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے، جو اپنی کلاس کو بہتر بنانے کے لیے خود کو بہتر بناتا ہے، جو کمزور طالب علم کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے آگے لانے کی کوشش کرتا ہے اور جو ہر نئے دن کے ساتھ اپنے طلبہ کے لیے کچھ بہتر کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے: بچوں کی مسکراہٹ کے پیچھے اساتذہ کی خاموش محنت ہوتی ہے، اور اساتذہ کی یہی خاموش محنت ایک روشن، باکردار اور کامیاب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔استاد کو سلام—جو خود پردے کے پیچھے رہ کر دوسروں کے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔
