اکتوبر 3, 2026

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں کامیابی، تحریری معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جانے لگا

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، اور ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان تحریری معاہدے کی تیاری جاری ہے جبکہ معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ تحریری معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے جائیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ان مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود حصہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز گلے شکوؤں سے ہوا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، مگر آج دوبارہ لانگ مارچ کا ٹویٹ کر دیا گیا۔ حکومتی وفد نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سینیئر حکومتی اکابرین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے، ایسے میں یہ کیسے سمجھا جائے کہ اپوزیشن وفد کتنا بااختیار ہے۔

جواب میں اپوزیشن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ درست ہے؟ اور مؤقف اپنایا کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ حکومتی وفد نے واضح کیا کہ وہ کھلے دل سے اور مکمل بااختیار ہو کر آئے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کیا جائے تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی کرنے پر خصوصی کمیٹیوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ دونوں فریق اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک میں انصاف اور آئین کو بحال کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور انہیں علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وہ خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، کیونکہ امید پر دنیا قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا۔