لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں طاقت کے مراکز ہیں، لیکن ایک ملک میں طاقت کے دو مراکز کیسے ہو سکتے ہیں۔
لاہور میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک آئین کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ملک کو خود برباد کیا ہے اور سہولت کاریاں کی ہیں، اس لیے سیاستدان بھی اس کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملکی سیاسی جماعتوں سے بددل اور مایوس ہو چکے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے جو ان کے ساتھ کیا، آج وہی ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہمارے ساتھ ہوا اس کا کوئی جواز نہیں تھا، اور آج بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا، اس لیے مہربانی کر کے کسی کو غدار بنانے کا کام بند کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ووٹ کا فیصلہ ماننے سے ہی نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی۔ چھوٹے صوبے ضرور بننے چاہئیں لیکن اس کے لیے بھی ووٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔ انہوں نے سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اٹھے اور سیاسی جماعتوں کو جگائے، کیونکہ ہم لوگ رومانوی ہیں اور جھوٹے وعدوں میں آ جاتے ہیں۔
