ہنگری کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی اقدام کرتے ہوئے وزیر اعظم پیٹر میگیار سمیت تین قانون سازوں کا قانونی استثنیٰ ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم پیٹر میگیار کو جون 2024 میں بڈاپیسٹ کے ایک نائٹ کلب میں مبینہ طور پر ایک شہری کا فون چھین کر دریائے ڈینیوب میں پھینکنے کے الزام میں چوری کے الزامات کے تحت تحقیقات کا سامنا ہے، جہاں ایک لاکھ فورنٹ (تقریباً 250 یورو) مالیت کا یہ فون بعد میں دریا سے درست حالت میں نکال کر واپس کر دیا گیا تھا۔ ستمبر 2024 میں چیف پراسیکیوٹر نے ان کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی جو اس وقت یورپی پارلیمنٹ کی سطح پر مسترد ہو گئی تھی، تاہم رواں سال مئی میں یورپی پارلیمنٹ کا مینڈیٹ ختم ہونے اور ہنگری کی پارلیمنٹ کا حصہ بننے کے بعد مقامی سطح پر استثنیٰ ملنے پر استغاثہ نے دوبارہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے علاوہ جن دو سابق وزرا کا استثنیٰ ختم کیا ہے ان میں سابق وزیر ثقافت بالاز ہانکو شامل ہیں جن پر 4.7 کروڑ یورو کے ثقافتی فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے، جبکہ سابق وزیر ترقی میکلوس سیزٹاک پر 3.2 کروڑ یورو سے زائد کی رشوت لینے کا شبہ ہے۔ اس طرح ہنگری کے ان اعلیٰ ترین حکام کو اب باقاعدہ قانونی تحقیقات اور احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
