متحدہ عرب امارات میں جاری ایران تنازع کے دوران ملک پر سائبر حملوں کی رفتار میں انتہائی خطرناک حد تک تیزی آ گئی ہے، اور اماراتی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق عرب امارات پر صرف ایک ہی دن کے اندر 6 لاکھ 40 ہزار سے زائد سائبر حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے دوران ملک کے اہم ترین تنصیباتی اور مالیاتی شعبے جن میں پیٹرولیم، گیس، بجلی، پانی اور بینکنگ کا نظام شامل ہے، براہِ راست سائبر حملہ آوروں کے اہم نشانے پر رہے ہیں۔ اماراتی حکام نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اماراتی سائبر سکیورٹی کونسل نے تمام حساس سرکاری اور نجی کمپنیوں کو انتہائی درجے پر الرٹ رہنے کا سخت مشورہ دیا ہے، اور یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں ان سائبر حملوں کی ماہانہ مجموعی تعداد خطرناک حد تک بڑھ کر 8 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔
اماراتی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اب جدید دور کی جنگوں میں سائبر حملے باقاعدہ جنگ کا ایک نیا اور خطرناک ہتھیار بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں دفاعی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود لگ بھگ 85 فیصد سے زائد سائبر حملے دراصل عام صارفین کی جانب سے کی جانے والی ایک معمولی غلط کلک یا لاپرواہی کی وجہ سے شروع ہوتے ہیں، جبکہ ماہرینِ سکیورٹی کا یہ بھی ماننا ہے کہ خطرناک سائبر حملہ آور سسٹم میں گھسنے کے بعد کئی کئی ماہ تک بالکل خاموش رہ کر اندرونی طور پر خفیہ کارروائیاں کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
