چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج نافذ ہے جو کہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے اور صوبے کے عوام، مینڈیٹ، وزیراعلیٰ سمیت تمام ارکان اسمبلی کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا پروگرام بہت پہلے طے شدہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کے اعتماد کے حامل اور وزیراعلیٰ رہیں گے جنہیں سب کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
مذاکرات اور لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایسے سنجیدہ حالات میں جب لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو حکومت کو بات چیت کرنی چاہیے اور سیاسی لوگوں کے خلاف نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کوئی چار رکنی کمیٹی نہیں بنائی، البتہ علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی اس حوالے سے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ پارٹی پُرامن ہے اور اداروں یا اسلام آباد پر کوئی حملہ نہیں کرے گی، لیکن حکومت کو کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے نکالنے کے خطرناک نتائج سے گریز کرنا ہوگا۔
