امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات، امریکا اور ایران کو اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آنے کا مطالبہ

امریکا کے دورے پر آئے چینی صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی، جہاں وائٹ ہاؤس پہنچنے پر صدر ٹرمپ اور امریکی خاتونِ اوّل نے مہمان صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔ اس ملاقات کے دوران چینی صدر نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آئیں، اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے تک پہنچیں گے جس میں ایٹمی اور دیگر معاملات کا تصفیہ بھی شامل ہو۔ چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا کے مطابق شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین نے ہمیشہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام کا مؤقف اپنایا ہے اور وہ فریقین کو پُرامن حل کے لیے ترغیب دیتا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو ٹکراؤ سے بچنا چاہیے کیونکہ باہمی تعاون کے بغیر دنیا کے کئی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے ساتھ متوازن تجارتی تعلقات اور بہتر مستقبل کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ اس دورے کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے صدارتی پروٹوکول کے برخلاف خود ایئرپورٹ جا کر چینی صدر کا شاندار استقبال کیا تھا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

Exit mobile version