سٹی 53 نیوز گجرات ۔۔ یوم تا سیس مبارک

نذرقلم: قاضی محمد فضل عثمان


بڑے خلوص سے رکھی تھی جو اک اینٹ کبھی
آج وہ سنگ میل ، مینار سحر لگتا ہے


سرزمین ڈنگہ میں 1994 سے تقریبا 2004 تک کسی نہ کسی حوالے سے سکونتی تعلق رہا ہے ، بعض احباب ڈنگہ کے باسی مجھے یہاں کا مقامی ہی سمجھتے ہیں ، اسی سلسلہ سکونت میں زیادہ عرصہ جامعہ رضویہ ضیا القرآن دین گاہ میں بطور طالبعلم سکونت پذیر رہا ، انہی روشن دنوں کا ایک واقعہ ہے ، طلبہ کی تنظیم انجمن محبان نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صدارت میری ذمہ تھی ، بطور صدر کافی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ، واقفان حال آگاہ ہیں ، اس ضمن میں کچھ طلبہ یا دوسرے شعبہ سے تحفظات کا سامنا تھا تو میں نے بطور صدر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے کے لئے مستغفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ، دو صفحات پر مشتمل تفصیلی استغفی جب استاذ محترم مولانا محمد رضا المصطفی صاحب کو جب موصول ہوا تو انہیں نے مجھے بلا بھیجا ، سامنے بٹھایا پیپر ان کے سامنے پڑا تھا ، میں نے سوچا اب خیر نہیں ، لیکن خلاف توقع استاذ محترم نے میرے سامنے اسے پڑھنا شروع کیا ، ساتھ پڑھتے جاتے اور ساتھ مسکراتے جاتے اور خوش ہوتے کیا لکھاہے ، قاضی جی آپ نے ،(مجھے استاذ محترم نے ہمیشہ قاضی جی کہ کر مخاطب کیا ہے ، الحمد للہ ، یہ بڑوں کی نسبت کا تعلق اور فیض ہے ) فرماتے جاتے کتنے پیارے انداز سے آپ نے یہ لکھا ہے ، یہ تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ اتنا اچھا لکھ لیتے ہو ، بہرحال وہ تو آپ نے سائیڈ پہ رکھا ، ممکن ہے ابھی بھی ریکارڈ میں موجود ہو ، اور فرمایا کہ استغفی نامنظور کیا جاتا ہے ، پھر فرمایا کہ میں آپکی ایک اور ڈیوٹی نہ لگاؤں ، میں نے عرض کیا حاضر ، عالی جاہ ، فرماتے ہیں ہمارے مقامی اخبار میں دوسرے مسالک کے لوگ بہت کچھ چھاپتے رہتے ہیں تو آپ ایسا کرو ہمارے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے لکھا کرو ، ہمارے ایک صحافی دوست ہیں ، ان سے کہتا ہوں اپنے اخبار میں وہ شامل اشاعت کردیا کریں گے ،اتفاق ہوگیا ، سب سے پہلا آرٹیکل ، “اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ، بطور محدث “لکھا گیا ، پھر شامل اشاعت بھی ہوا ۔


محترم الطاف حسن طاہر سے متعلق استاذ صاحب فرماچکے تھے ، صحافی حضرات ان کے پاس حاضر ہوتے رہتے تھے ، لیکن استاذ محترم نے محترم الطاف حسن طاہر کی زیر ادارت چلنے والے اخبار “ دیہات ٹائمز” کو منتخب فرمایا ، آرٹیکل شایع ہوا ، ہمارے احباب طیب خاطر ہوئے ، عید گاہ کے پاس ہی دفتر تھا ، ادھر ہی جاوید صاحب کمپوزنگ کرتے تھے ، اوراق پہ لکھ کر ادھر ہی دے دیتا ، اور شامل اشاعت ہوجاتا ، میرے پاس ممکن ہے گھر میں وہ شمارے موجود بھی ہوں ، کچھ عرصہ “حسن خیال” کے نام سے آرٹیکل چلتا رہا ،اتفاق سے اپنے لکھے آرٹیکل “ اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے “ کے پیج پر رکھ کر کسی پکوڑہ شاپ سے پکوڑے بھی کھا رکھے ہیں


؀میری آواز بہت دور تلک جائے گی
آیت ہجر سنا ؤنگا میں ترتیل کے ساتھ

خیر سفر زیست چلتا رہا، حسن خیال سے نذرقلم واردہوا


پھر “ روزنامہ 53 نیوز کا اجرا ہوا ، حکیم عبد الجبار صاحب اس کے روح رواں تھے ، تحریر کبھی کبھی مدون ہوتی ، مستقل مزاجی سے لکھنے کا موقع نہیں بنا ، جب بھی موقع ملتا کچھ لکھ کر ارسال کردیتا ، جیسے ہی تحریر محترم عبد الجبار صاحب کو ارسال کردی جاتی ، اگلی اشاعت میں چمک رہی ہوتی، اللہ بھلا کرے ان کا اور ان کی ٹیم کا کبھی ایک لفظ کو تبدیل کرانے کی کوشش نہیں یا کہا ہو کہ یہ ہم نہیں چھاپ سکتے ، انہوں نے مان رکھا ، جیسے بھیجا جاتا من وعن ویسے ہی چھاپا جاتا ، حالانکہ راقم الحروف نے اتفاق سے ہر حکومت کے لئے خود کو بطور اپوزیشن سمجھاہے ، بعض دفعہ سخت تراکیب بھی استعمال ہو جاتیں لیکن مجال ہے جو اس جریدے کی ٹیم نے کبھی ماتھے پہ شکن ڈالی ہو ، مہنگائی کے اس دور میں ، جب مکمل طور پر سوشل میڈیا نے ہر چیز پہ دبیز تہہ چڑھائی ہوئی ہے ، جھوٹ اور سچ میں تمیز مشکل ہوگئی ہے ، ایسے میں چراغ محبت جلا کر سر بام رکھ دینا بڑا دل گردے کاکام ہے ، ایک لوکل اور مقامی اخبار یا جریدہ کو تسلسل سے چھاپنا بہت معنی رکھتا ہے ، شریف چشتی صاحب ، حکیم عبد الجبار صاحب، الطاف حسن طاہر صاحب ، بشارت بی ایس صاحب ، امجد رسول صاحب ،ندیم قادری صاحب ،زاہد حنیف صاحب ،مرزا ارشد علی ،اختر مغل صاحب ،احسان اللہ مغل صاحب ،ملک نوید صاحب ،مشتاق مغل صاحب ہمارے ایک کلاس فیلو حکیم قیصر صاحب ، اور ان کی ٹیم کی محبت اور محنت ہے جو یہ مشکل کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ، اللہ کرے معاشرے میں تعمیر وترقی کی ترویج کرنے والا ادارہ پوری آب وتاب سے قائم رہے ، مظلوم کی امید بنا رہے ، آمین

Exit mobile version