کینیڈا نے ایرانی حکومت کے مبینہ ظالمانہ جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار پر تاتاری اقدامات کرتے ہوئے 10 ایرانی افراد اور اداروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے قابلِ مذمت اقدامات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنے پاس موجود تمام سفارتی و قانونی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے، کیونکہ تہران کی حکومت عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور بڑے پیمانے پر حقوقِ انسانی کی پامالیوں میں ملوث ہے۔
نئی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی و حکومتی عہدیدار شامل ہیں، جن میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا نام بھی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ ان اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو ریاستی سرپرستی میں شہریوں کے خلاف ڈیجیٹل جبر کے مرتکب ہو رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر آوازوں کو دبایا جا سکے۔
